خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 92

خطبات محمود ۹۲ محبت، شفقت اور پیار سے کام لو فرموده ۱۶ مارچ ۱۹۳۴ء) سال ۱۹۳۴ء حالانکہ تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- مجھے آٹھ دس روز سے ظہر کے بعد حرارت ہو جاتی ہے اس لئے میں زیادہ دیر تک بول نہیں سکتا لیکن پچھلے دو جمعوں میں میں نے جو تقریریں کی ہیں انہی کے تسلسل میں اختصار کے ساتھ رسول کریم ﷺ کا طریق عمل اور آپ کی ایک نصیحت سنا دیتا ہوں۔مجھے نہایت ہی افسوس ہے کہ بعض لوگ وعظ کی مجلس میں نصیحت حاصل کرنے کیلئے نہیں آتے بلکہ بالکل بہروں کی طرح آکر بیٹھ جاتے ہیں اور بہرہ پن کی حالت میں ہی اُٹھ کر چلے جاتے ہیں وعظ کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ انسان سنے اور اسے تسلیم کرے ورنہ اگر اطاعت نہ ہو تو نبوت اور خلافت بھی بے معنی ہے۔مجھے نہایت افسوس کے ساتھ یہ بات معلوم ہوئی کہ پچھلے جمعہ کے دن مسجد سے نکلتے ہی ایک احمدی ایک دوسرے شخص سے لڑ پڑا۔لڑائی تو عام حالات میں بھی منع اور معیوب ہے مگر میں نے سنا ہے کہ یہ لڑائی کسی تازہ واقعہ کی بناء پر نہیں تھی بلکہ اس وجہ سے تھی کہ لڑنے والا احمدی جب اس کے گاؤں میں تبلیغ کیلئے گیا تو اس نے اسے تنگ کیا تھا اور یہ ایسی ذلیل اور کمینہ حرکت ہے کہ اسے سن کر میں بہت ہی شرمندہ اور نادم ہوا کیونکہ یہ بالکل کتے والی بات ہے جو اپنی گلی میں شیر ہوتا ہے۔مومن کو اگر جوش آئے بھی تو اُس جگہ آتا ہے جہاں دشمن کا زور ہو۔یہ اطلاع جو مجھے پہنچی ہے اگر صحیح ہے تو یہ ایسی بات ہے کہ میں ندامت سے پانی پانی ہوا جاتا ہوں۔اول تو میں نے نصیحت کی تھی کہ !