خطبات محمود (جلد 15) — Page 82
خطبات محمود ۸۲ سال ۱۹۳۴ء ہوگا یہی سمجھا ہو گا کہ لوگوں کی بیویوں اور بیٹیوں کو لے کر میں وہاں گیا تھا۔غرض اس قسم کے بری فطرت والے اور گندے مخالفوں سے ہمارا مقابلہ ہے اور اس وجہ سے جماعت کو اور بھی ہوشیاری کی ضرورت ہے۔اور ہر خبر جو دشمن کی طرف سے ملے یا اپنے ہی بعض لوگ مشہور کریں اسے کبھی صحیح تسلیم نہیں کرلینا چاہیے بلکہ ایسی خبروں کو میرے پاس پہنچانا چاہیئے۔مرکزی دفتروں کو اطلاع دینی چاہیے تا بعد تحقیق مناسب کارروائی کی جائے۔دشمن ہزاروں باتیں ایسی کہا کرتا ہے جو بالکل بے بنیاد ہوتی ہیں۔پس خوف کی کوئی وجہ نہیں اگر ہم خدا تعالٰی کے مامور کے بچے متبع ہیں تو جو کچھ بھی ہوتا ہے ہمارے فائدہ کیلئے ہوتا ہے۔اور اس پر ڈرنا اور خائف ہونا ایسا ہی ہے جیسا کہ کہتے ہیں کہ کسی بادشاہ کو وہم کا مرض ہو گیا اور اس نے عہد کرلیا کہ میں اپنی لڑکی کی کسی زمینی آدمی سے شادی نہیں کروں گا بلکہ اس سے کروں گا جو آسمان سے اُترے۔اتفاقاً ایک دن کوئی حبشی بگولے میں اُڑ کر وہاں اگر ا۔بادشاہ نے اس سے اپنی بیٹی کی شادی کردی۔کچھ عرصہ کے بعد جب وہ اپنے وطن گیا تو ماں کے گلے چمٹ کر خوب رویا اور کہنے لگا ماں! میں کیا بتاؤں مجھے پر اس عرصہ میں کتنی مصیبتیں آئیں۔وہ روز مجھے کپڑے پکا پکا کر کھلاتے تھے۔پلاؤ اور زردہ جو اسے ملتا وہ خیال کرتا کہ یہ کیڑے پکے ہوئے ہیں۔پھر چونکہ سوتے وقت نیچے روئی کا گدیلا اور لحاف رکھا جاتا اور نوکر پاؤں دباتے تھے۔اس کے متعلق اس نے کہا کہ اے ماں! وہ میرے اوپر بھی روئی ڈال دیتے اور نیچے بھی اور پھر اوپر سے مجھے کوٹنے لگ جاتے۔ایسے ہی مصائب آپ لوگوں کے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کی آپ جماعت ہیں تو گھبراتے کیوں ہیں۔بے شک مومن کو خدا تعالیٰ کے استغناء کو مد نظر رکھنا چاہیے لیکن بندوں سے ڈرنے کی کیا وجہ ہے اور پھر ان باتوں سے جن کو اللہ تعالٰی آپ کے فائدہ کیلئے پیدا کر رہا ہے۔ہاں بے شک اپنی کمزوریوں کا خیال کر کے استغفار کرنا چاہیے، صحیح ذرائع فتنوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اختیار کرنے چاہئیں مگر خوف اور گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں کہ اوپر ہر بلائیں قوم را حق داده اند زیر آن گنج کرم بنها ده اند پھر جب خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک نظام مقرر کیا ہے اور ایک خلیفہ بنایا ہے جس کی اطاعت تم پر فرض ہے تو تمہارا کام یہ ہے کہ جب کوئی گھبراہٹ کی بات سنو فوراً خلیفہ وقت کو بتادو یونہی گھبرائے پھرنا انجام کار انسان کو شرمندہ کرتا ہے۔مثلاً اسی مسجد کے بننے کی جس کا