خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 68

خطبات محمود Чл سال ۱۹۳۴ء خلافت کا سوال اُٹھایا گیا تو وہ کوئی کم ٹھوکر کا موجب نہیں تھا۔جوں جوں یہ پروپیگنڈہ بڑھتا گیا ساتھ ساتھ پریشانی بڑھتی گئی۔یہ کوئی معمولی دن نہ تھے۔پھر حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد جو ابتلاء آیا وہ سب کو معلوم ہے۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ساری جماعت مخالفین کے قبضہ میں آگئی ہے۔وہ ایسے واقعات نہیں کہ جن کو انسان بغیر اس کے کہ دل بے قابو ہو جائے، بیان کر سکے۔اسی لئے ان کی تفصیلات میں جانے سے میں نے ہمیشہ گریز کیا ہے کہ ان کو یاد کر کے طبیعت کے اندر ایسی بے چینی پیدا ہو جاتی ہے جیسے کسی عظیم الشان محبوب کی موت یاد آجاتی ہے۔پھر بعد میں جو ابتلاء آئے، وہ بھی کم نہ تھے غیر مبائعین نے خود لکھا تھا کہ ۹۸ فیصدی جماعت ہمارے ساتھ ہے۔اور ایسے ایسے لوگ مخالف ہو گئے جن کے متعلق کوئی گمان بھی نہ تھا۔کچھ عرصہ قبل گوجرانوالہ میں میرا لیکچر ہوا تھا۔اس کے بعد ایک ڈاکٹر صاحب نے مجھے الگ آکر کہا کہ جو لوگ آپ کے عقائد کے خلاف ہیں وہ آج جل مرے۔ایک تو اس وجہ سے کہ ان کے خیالات کی مدلل طور پر تردید ہوئی اور دوسرے اس لئے کہ آپ نے کھول کھول کر بیان کیا مگر باوجود اس کے غیر احمدی آپ کے لیکچر کی زیادہ تعریف کرتے تھے۔مگر کیہ تعجب کی بات تھی کہ تھوڑے ہی دنوں بعد اس ابتلاء کے موقع پر وہ صاحب قادیان آئے۔اور دوسرے دن مجھے گالیاں دیتے ہوئے چلے گئے کہ یہ سب دھوکا ہے، ٹھگ بازی ہے، فریب ہے۔اور اس دن سے لے کر آج تک متواتر ابتلاء آتے رہے ہیں اور تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد اب بھی آتے ہیں۔بلکہ بعض لوگوں کے نزدیک تو آج کل اس قدر ہماری مخالفت ہو رہی ہے کہ غیر احمدی تک یہ کہہ رہے ہیں کہ پہلے کبھی ایسی نہ ہوئی تھی۔ابھی جو میں لاہور گیا تو ایک دوست نے ذکر کیا کہ ایک غیر احمدی لیڈر نے ان سے بیان کیا کہ آج کل احمدیوں کی جس قدر مخالفت ہو رہی ہے، ابتداء میں بھی شاید اتنی نہ ہوئی ہو۔اور یہ صحیح بھی ہے مگر جماعت بوجہ ان فتوحات کے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسے نصیب ہو رہی ہیں، اسے محسوس نہیں کرتی۔اس کی حالت اس بچہ کی سی ہے جس کی ماں رات کو فوت ہو گئی صبح کو جب وہ اُٹھا تو اُسے پیار کرنے لگا اور ہنسنے لگا۔پھر بھی جب وہ اس کی طرف متوجہ نہ ہوئی تو اُس نے محبت سے اُس کے منہ پر چپت ماری اور یہی سمجھتا رہا کہ یونسی چُپ ہے۔حتی کہ جب اُسے دفن کرنے کیلئے لے جانے لگے تب اسے معلوم ہوا کہ اس کی نہایت ہی محبوب چیز ہمیشہ کیلئے اس سے چھڑا دی گئی ہے۔اسی طرح جماعت کے وہ ناواقف دوست جو سلسلہ کے حالات سے آگاہ