خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 521 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 521

خطبات محمود ۵۲۱ سال ۱۹۳۴ء کیلئے اس کے آگے آنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔رسول کریم ﷺ پر غار حرا میں جب پہلی وحی نازل ہوئی تو اس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے نیز اپنی ذمہ داریوں کے احساس کی وجہ سے اور ان کے خطرات کو محسوس کرتے ہوئے آپ اپنی وفادار بیوی حضرت خدیجہ اللہ کے پاس مشورہ کرنے گئے اس وقت حضرت خدیجہ اللہ نے آپ سے یہی کہا کہ اللہ تعالٰی نے جب یہ ذمہ داری آپ پر ڈالی ہے تو ضرور اس کے بجالانے کی توفیق بھی عطا فرمائے گا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو الہام ہوتے ہیں وہ یا تو انعامی ہوتے ہیں یا امتحانی کبھی تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اس کا امتحان لینے کیلئے الہام نازل کرتا ہے تا اس کے اندر جو شر ہو وہ ظاہر ہو جائے اور کبھی الہام اس لئے نازل کرتا ہے کہ اپنے بندے کو اونچا کرے۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے کہا کہ اللہ تعالی آپ کو ضائع نہیں کرے گا۔كَلا والله لا يُخْزِيكَ الله ابدا سے یعنی اللہ تعالی آپ کو ہرگز ہرگز رُسوا نہیں کرے گا۔اگر آپ کا یہ خیال ہو کہ یہ الہام امتحانی ہے، تو میں اسے مان نہیں سکتی میں چونکہ آپ کی ذات سے پوری طرح آگاہ ہوں، اس لئے میں خدا کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہیں کرے گا۔اور ایسا نہ ہونے کی بناء آپ نے جن اخلاق پر بتائی ان میں سے ایک یہ ہے کہ تَكْسِبُ الْمَعْدُومَ = یعنی دنیا سے جو نیکیاں معدوم ہو چکی ہیں، وہ آپ سے ظاہر ہو رہی ہیں۔نیا سلسلہ قائم کرنے کی غرض یہی ہو سکتی ہے کہ کوئی ایسی چیز جو پہلے موجود نہیں، اب اس کے ذریعہ قائم کی جائے لیکن اگر وہ پہلے ہی موجود ہو، تو اتنی مصیبتیں اور اتنی تکلیفیں اٹھانے کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے۔اور جس جماعت کا یہ دعوئی ہو کہ وہ معدوم اخلاق قائم کرنے کیلئے قائم کی گئی ہے، وہ ان نیکیوں کا جو اس سے پہلے موجود تھیں کیا انکار کر سکتی ہے۔اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے خدا تعالیٰ نے فرمایا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ کہ روزے ایسی نیکی ہے جو تم سے پہلے لوگوں پر بھی فرض کی گئی تھی اور وہ بھی اسے بجالاتے رہے ہیں۔پس روزے کوئی نئی نیکی نہیں جو تمہارے ذریعہ سے قائم کی جارہی ہے۔بعض نئی نیکیاں تمہارے ذریعہ سے بھی قائم کی جائیں گی اور وہی تمہارا اصل مقصد ہیں مگر روزے کوئی نئی نیکی نہیں۔روزے تو دنیا میں سب رکھتے ہیں حتی کہ کافر بھی رکھتے ہیں پس تم کو ان سے بہتر طریق پر روزے رکھنے چاہئیں نہ یہ کہ اس میں تمہاری طرف سے کسی قسم کی کمزوری