خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 513

خطبات محمود سواه سال ۱۹۳۴ء ہو حاصل کر سکتے ہیں اور ظاہر ہے کہ وہ مصائب جن کے بدلہ میں اللہ تعالی کا تازہ کلام حاصل : ان سے زیادہ قیمتی چیز اور کیا ہو سکتی ہے۔اسے تو اگر جان دے کر بھی لیا جائے تو سستی ہے۔پس رمضان ہمیں ہدایت کرتا ہے کہ ہمیں دنیا کیلئے قربانی کرنی چاہیے اور مشکلات و مصائب سے گھبرانا اور ڈرنا ہرگز نہیں چاہئے۔خدا کیلئے اپنے اوپر موت وارد کرلینے اور تاریکی قبول کرلینے کے سوا خدا کو ہم نہیں پاسکتے اس لئے ہمارے دوست اس ظاہری رمضان سے بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں تا جو روحانی رمضان ہم پر آیا ہوا ہے اس سے بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے۔اللہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم نے رمضان اس لئے نازل کیا ہے تا لوگوں کو سہولت پہنچے اور وہ تنگی سے بچ جائیں لیکن ہم دیکھتے ہیں بظاہر ان دنوں میں زیادہ تنگی ہوتی ہے مگر اللہ تعالی فرماتا ہے۔یہ بدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْر هم برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ تم ایمان لاؤ اور پھر تنگیوں میں بسر کرو اس لئے ہم نے روزے فرض کئے تا تمہاری تنگیاں دور ہوں۔یہ ایسا نکتہ ہے جو مومن کو مومن بناتا ہے اور یہ ہے کہ روزہ میں بھوکا رہنا یا دین کیلئے قربانی کرنا انسان کیلئے کسی نقصان کا موجب نہیں بلکہ سراسر فائدہ کا باعث ہے۔جو یہ خیال کرتا ہے کہ رمضان میں انسان بھوکا رہتا ہے، وہ قرآن کی تکذیب کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم بھوکے تھے ، ہم نے رمضان مقرر کیا تا تم روٹی کھاؤ۔پس معلوم ہوا کہ روٹی یہی ہے جو خدا تعالیٰ کھلاتا ہے اور اصل زندگی اسی سے ہے۔اس کے سوا جو روٹی ہے وہ روٹی نہیں، پتھر ہیں جو کھانے والے کیلئے ہلاکت کا موجب ہیں۔مومن کا فرض ہے کہ جو لقمہ اس کے منہ میں جائے، اس کے متعلق پہلے دیکھے کہ وہ کس کیلئے ہے۔اگر تو وہ خدا کیلئے ہے تو وہی روٹی ہے اور اگر نفس کیلئے ہے تو وہ روٹی نہیں۔جو کپڑا خدا کیلئے پہنا جائے وہی لباس ہے جو نفس کیلئے پہنتا ہے وہ ننگا ہے۔دیکھو کیسے لطیف پیرانیہ میں بتایا ہے کہ جب تک خدا کیلئے تکالیف اور مصائب برداشت نہ کرو تم سہولت نہیں اٹھا سکتے۔اس سے ان لوگوں کے خیال کا بھی ابطال ہو جاتا ہے جو بقول حضرت مسیح موعود علیہ السلام رمضان کو موٹے ہونے کا ذریعہ بنالیتے ہیں۔حضور فرمایا کرتے تھے کہ بعض لوگوں کیلئے تو رمضان ایسا ہی ہوتا ہے جیسے گھوڑے کیلئے خوید وہ ان دنوں میں خوب گھی، مٹھائیاں اور مرغن اغذیہ کھاتے ہیں اور اسی طرح موٹے ہو کر نکلتے ہیں جس طرح خوید کے بعد گھوڑا -۔چیز بھی رمضان کی برکت کو کم کرنے والی ہے۔ہماری جماعت کے دوستوں نے عام اقرار کیا