خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 510

خطبات محمود ۵۱۰ سال ۱۹۳۴ء مگر روحانی دنیا میں وہ بہت قیمتی ہوتی ہیں۔رسول کریم ا یہ ایک دفعہ تقریر فرما رہے تھے بعض لوگ کھڑے تھے آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ۔حضرت عبداللہ بن مسعود گلی میں جلسہ میں شامل ہونے کیلئے آرہے تھے آپ نے آواز سنی تو وہیں بیٹھ گئے اور گھسٹ گھسٹ کر چلنا شروع کر دیا ہے۔اب بظاہر یہ کس قدر مضحکہ خیز بات ہے کہ ایک شخص اکڑوں بیٹھا ہوا چلتا جارہا ہے۔ایک شخص نے انہیں اس حالت میں دیکھا اور پوچھا کیا کر رہے ہو۔آپ نے کہا میں نے رسول کریم ﷺ کا ارشاد بیٹھ جانے کے متعلق سنا اور اس خیال سے کہ کیا معلوم وہاں پہنچنے تک جان ہی نکل جائے اور اس کی تعمیل کا موقع ہی نہ ملے، یہیں بیٹھ گیا۔اب جس شخص نے انہیں اس حالت میں دیکھا وہ تو دل میں ہنستا ہو گا کہ یہ شخص کتنا نادان ہے مگر اسے کیا معلوم کہ یہی حرکت کس قدر خداتعالی کے حضور مقبول تھی۔کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں دوسرے جلد بازی سمجھتے ہیں۔اور ان کے کرنے والوں کے متعلق بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بڑے خیر خواہ بنے پھرتے ہیں مگر یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بڑا نکتہ نواز ہے اور وہ ضرور ثواب حاصل کرلیتے ہیں۔میں نے کسی گذشتہ خطبہ میں بیان کیا تھا کہ رسول کریم ﷺ نے ایک صحابی کے سپرد ایک مہمان کیا کہ اسے لے جا کر کھانا کھلاؤ۔آپ اسے ساتھ لے گئے اور بیوی سے پوچھا کہ کھاتا ہے۔اس نے کہا صرف بچوں کیلئے ہی ہے اس سے زیادہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک تو مہمان ہے اور پھر رسول کریم اللہ کا بھیجا ہوا۔بیوی نے کہا کہ پھر اس طرح کرتے ہیں کہ میں بچوں کو یونہی تھپک کر سلادیتی ہوں اس کے بعد دستر خوان بچھا کر کھانا رکھ دوں گی تم کہنا کہ روشنی ذرا اونچی کردو اور میں اونچی کرنے کے بہانہ سے گل کردوں گی اور پھر معذرت کروں گی کہ آگ موجود نہیں اور روشنی کرنے کا کوئی اور سامان بھی نہیں ہمسائیوں کو اس وقت تکلیف دینا مناسب نہیں اس لئے اگر مہمان اندھیرے میں ہی کھانا کھالے تو اس کی مہربانی ہوگی۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا بچوں کو سلادیا اور بتنی اونچی کرتے ہوئے دیا بجھا دیا مہمان سے معذرت کر دی اور اس نے کہا کوئی حرج نہیں، میں اندھیرے میں ہی کھالوں گا اور پھر خود مہمان کے ساتھ بیٹھ کر یونی منہ مارتے رہے۔اس وقت تک پردہ کا حکم نازل نہ ہوا تھا اس لئے اس خیال سے کہ مہمان ہتک محسوس نہ کرے میاں بیوی دونوں اس کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ گئے اور اس طرح مچاکے مارنے شروع کئے کہ گویا کھانے میں بڑا لطف آرہا ہے۔اللہ تعالی کو ان کی یہ م جاننے کی آواز