خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 509

خطبات محمود ۵۰۹ سال ۱۹۳۴ء پر لوگ جن کی آمدنیاں زیادہ ہیں۔خاموش ہے یا اس انتظار میں ہے کہ جماعت کے ساتھ وعدہ بھجوائے گا۔لیکن دوسری طرف متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے یا غرباء میں سے بعض ایسے ہیں کہ جن کے پاس پیسہ نہیں تھا اور انہوں نے چیزیں پیش کردیں اور کہا کہ ہمارا اثاثہ لے لیا جائے۔اگرچہ ہم نے لیا نہیں کیونکہ میرے اصل مخاطب امراء تھے مگر اس سے اتنا پتہ تو لگ سکتا ہے کہ جماعت میں ایسے مخلصین بھی ہیں جو اپنی ہر چیز قربان کر دینے کیلئے تیار ہیں۔اسی سلسلہ میں مجھے یہ بھی شکایت پہنچی ہے کہ بعض جماعتوں کے عہدیدار لوگوں کو یہ کہہ کر خاموش کر رہے ہیں کہ جلدی نہ کرو، پہلے غور کر لو گویا ان کے غور کرنے کا زمانہ ابھی باقی ہے۔ڈیڑھ دو مہینہ سے میں خطبات پڑھ رہا ہوں اور تمام حالات وضاحت سے پیش کرچکا ہوں لیکن ابھی ان کے غور کرنے کا موقع ہی نہیں آیا۔یہ مشورہ کوئی نیک مشورہ نہیں یا سادگی پر دلالت کرتا ہے یا شاید بعض خود قربانی سے ڈرتے ہوں اور دوسروں کو بھی اس سے روکنا چاہتے ہوں کہ ان کی بستی اور غفلت پر پردہ پڑا رہے۔کیا رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں جہاد کے موقع پر پہلے غور کیا جاتا تھا اور یہ کہا جاتا کہ جلدی نہ کرو، غور کرلو۔قرآن کریم میں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرت ہے یعنی دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اور جلدی کوشش کرو۔مگر یہ کہتے ہیں کہ گھر جاؤ ، غور کرلو۔حالانکہ غور کیلئے پہلے ہی کافی عرصہ مل چکا ہے۔ایسے عہدیداروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی اس تلقین سے جو لوگ سبقت کے ثواب سے محروم رہیں گے ان کا عذاب بھی انہی کی گردنوں پر ہوگا۔لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص ثواب سے محروم رہتا ہے تو اپنے کسی فعل کے نتیجہ میں رہتا ہر ہے۔یہ نظام کا کوئی سوال نہیں تھا کہ عمدہ داروں کے ماتحت رہ کر ہی کرنا ضروری تھا۔شخص اپنے طور پر بھی رقم بھیج سکتا یا اپنا نام لکھوا سکتا تھا۔اسے کس نے روکا تھا کہ علیحدہ طور حصہ لیتا اور جو لوگ کسی ایسی وجہ سے ثواب سے محروم ہیں ان کی اپنی بھی غلطی ہے۔جماعتی لحاظ سے بعض مقامات سے مجھے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ جماعتیں اپنی لسٹیں اکٹھی بھجوائیں گی گویا دیر اس وجہ سے ہے۔ان جماعتوں پر یا ان کے افراد پر کوئی الزام نہیں۔مگر ان میں سے بھی بعض مخلصین ایسے ہیں جنہوں نے اس دیر کو بھی برداشت نہیں کیا اور رقمیں بھیج دی ہیں اور جماعت کا انتظار بھی نہیں کیا۔یہ گو معمولی باتیں ہیں مگر روحانی دنیا میں یہی چیزیں ثواب بڑھا دینے کا موجب ہو جایا کرتی ہیں۔ایسی معمولی باتیں بظاہر نسی والی ہوتی ہیں