خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 505

خطبات محمود ۵۰۵ سال ۱۹۳۴ء وہ قصوں کہانیوں والی مجلس نہ تھی، شعرو شاعری کی مجلس نہ تھی، وہ ایسی مجلس نہ تھی جس میں مباحثات اور مناظرات ہوتے ہیں بلکہ وہ مجلس ایسی تھی جس میں ایک طرف متواتر اور پیم اخلاص کا اظہار ہوتا تھا تو دوسری طرف متواتر اور پیم گالیاں دشنام، ڈراوے اور دھمکیاں ہوتی تھیں، وہ ایسی مجلس تھی جس میں ایک دفعہ جانے کے بعد دوسرے دن جانے کی خواہش باقی نہیں رہتی، وہ ایسی گالیاں، ایسے ڈراوے اور ایسی دھمکیاں ہوتی تھیں کہ ایک طرف ان کے دینے والے سمجھتے تھے کہ اگر اس شخص میں کوئی حق باقی ہے تو کل اس کے مونہہ سے ایسی بات ہرگز نہ نکلے گی وہ خوش ہوتے تھے کہ آج ہم نے محمد ( ) کی زبان بند کردی اور دوسری طرف جب خدا کا سورج چڑھتا تھا تو خدا کا یہ عاشق خدا کا پیغام مکہ والوں کو پہنچانے کیلئے نکل کھڑا ہوتا۔پھر تمام دن وہی گالیاں ، وہی دھمکیاں اور وہی ڈراوے ہوتے تھے اور اسی میں شام ہو جاتی مگر جب رات کا پردہ حائل ہوتا تو وہ سمجھتے کہ شاید آج یہ خاموش ہو گیا ہو گا مگر وہ جس کے کانوں میں خدا کی آواز گونج رہی تھی وہ مکہ والوں سے کیسے خاموش ہو جاتا۔اگر تو اس کی رات سوتے گذرتی تو وہ بیشک اس پیغام کو بھول جاتا مگر جب اس کے سونے کی حالت جاگنے کی ہی ہوتی تو وہ کیسے بھول سکتا تھا۔وہ سبق جو دہرایا نہ جائے بیشک بھول سکتا ہے مگر جب آپ کی یہ حالت تھی کہ جونہی سرہانے پر سر رکھا وہی اقراء کی آوز آنی شروع ہو جاتی تو آپ کس طرح اس پیغام کو بھول جاتے۔اس موقع پر بارش کے چھینٹے پڑنے شروع ہو گئے۔اور لوگوں میں کچھ حرکت پیدا ہوئی۔اس پر حضور نے فرمایا گھبراؤ نہیں یہ بارش تمہاری مہینوں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ جب تازہ بارش ہوتی تو رسول کریم باہر نکل کر منہ کھول دیتے اور جب چھینٹا منہ میں گرتا تو فرماتے کہ یہ میرے رب کا تازہ انعام ہے) سے پس محمد مصطفی ا و و و رمضان میں ہی یہ آواز آئی اور رمضان میں ہی آپ نے غار حرا سے باہر نکل کر لوگوں کو یہ تعلیم سنانی شروع کی۔قرآن کریم میں آتا ہے۔کہ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ یعنی رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن اترا۔اور دوسری جگہ ہے۔کہ إِنَّا أَنْزَلْتُهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ۔وَمَا اَدْرُكَ مَالَيْلَةُ الْقَدْرِه - یعنی قرآن کریم لیلۃ القدر میں اُتارا گیا ہے۔رمضان رمض سے نکلا ہے جس کے معنی عربی میں جلن اور سوزش کے ہیں خواہ دھوپ کی ہو، خواہ بیماری کی۔اور اس لئے رمضان کا مطلب یہ ہوا کہ ایسا موسم جس میں سختی کے اوقات اور ایام ہوں۔ادھر فرمایا۔۔