خطبات محمود (جلد 15) — Page 492
خطبات محمود ۴۹۲ سال ۲۱۹۳۴ قربانی اس امیر سے زیادہ ہے جسے روز کا چسکا ہے۔پس غریب یہ نہ سمجھیں کہ وہ اس میں شامل نہیں ہوسکتے۔ہو سکتے ہیں اور ان کیلئے ثواب کے حصول کا ویسا ہی موقع ہے جیسا امراء کیلئے ، اس لئے جماعت کے ہر فرد کو اس میں شامل ہونے کا عہد کرنا چاہیئے۔اطلاع دینا ضروری ہے۔میں نے کہا تھا کہ جو دوست اس میں شامل ہوں وہ مجھے اطلاع دیں۔لیکن میں جانتا ہوں کہ بیسیوں لوگ ایسے ہیں جنہوں نے عہد تو کیا ہے مگر مجھے اطلاع نہیں دی۔قادیان کے صرف دو محلوں نے بحیثیت مجموعی اس کی اطلاع دی ہے۔ایک دارالسعت اور ایک دار الرحمت۔محلہ دارالرحمت ہر تحریک میں دوسروں سے آگے رہتا ہے مگر اس تحریک میں دار السعت بھی سبقت لے گیا ہے۔باقی کسی محلہ نے محلہ کے طور پر اطلاع نہیں دی۔(اس عرصہ میں دارالبرکات نے بھی اطلاع دے دی ہے فَجَزَا هُمُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ ) اگرچہ مجھے معلوم ہے کہ بیسیوں افراد ہیں جنہوں نے اس میں حصہ لیا ہے۔ان کے اطلاع نہ دینے کی دو ہی وجہیں ہو سکتی ہیں۔یا تو یہ کہ وہ ڈرتے ہیں کہ شاید یہ عہد ٹوٹ نہ جائے اور یا پھر یہ اکبر کی علامت ہے۔جب میں نے کہا ہے کہ وہ اطلاع دیں تو کیوں نہیں دیتے۔دوسری بات میں نے غرباء کو شامل کرنے کیلئے یہ کسی ہے کہ ہاتھ سے کام کرنے کی عادت پیدا کی جائے۔غرباء پہلے بھی ایسا کرتے ہیں مگر مجبوری کے ماتحت۔اب وہ یہ کہیں گے کہ چونکہ مذہبی اخلاق کے حصول اور قومی ترقی کیلئے ہمیں یہ ہدایت ہے اس لئے ہم ایسا کرتے ہیں۔تیسرے میں نے دعا کو ضروری قرار دیا ہے کہ غریب امیر کے علاوہ اپانچ اور لنگڑے لولے بھی اس میں شامل ہو سکیں۔جو امیر اپانچ ہو، وہ تو روپیہ دے کر بھی شریک ہو سکتا لیکن غریب اپانچ کیلئے کوئی صورت نہ تھی اس لئے میں نے دعا کو ضروری قرار دے دیا ہے۔تا ایسے لوگ دعاؤں میں شریک ہو کر ثواب حاصل کر سکیں اور یہ ایک ایسی بات ہے کہ گھر میں ہے بیٹھی ہوئی عورت بلکہ چارپائی کے ساتھ چسپاں مریض بھی اس میں حصہ لے سکتا ہے۔چوتھے سکیم کے اثر کو وسیع کرنے کیلئے اور اس خیال سے کہ جماعت کے زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں شریک ہوں، مالی قربانیوں میں میرے مخاطب کو پہلے امراء ہی تھے مگر میں نے یہ رعایت بھی کردی ہے کہ جو غرباء دس دس یا پانچ پانچ روپے نہ دے سکیں ، وہ کمیٹیاں