خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 479

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء بے تکلف ہو تو اس سے بھی کہہ دیا جائے کہ میں ایک ہی کھانا کھاؤں گا لیکن اگر دعوت کرنے والا بے تکلف نہ ہو اور اس کی طرف سے شکوہ کا ڈر ہو تو پھر متعدد کھانے بھی کھائے جاسکتے ہیں۔مہمان کو کھلاتے وقت بھی یہی بات مد نظر رہے۔اگر مہمان ایسا ہو کہ ڈر ہو کہ وہ اسے بُرا منائے گا کہ میزبان خود ایک کھانا کھاتا ہے تو مہمان کے ساتھ سب کھانوں میں شریک ہو جائے۔اگر اس کا خطرہ نہ ہو تو پھر خود ایک ہی کھانا کھائے اس کے آگے ایک سے زیادہ کھانے رکھ دے۔مگر جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں کو دعوتوں میں ایک سے زیادہ کھانوں کی اجازت ہے مگر اس میں بھی گذشتہ دستور سے کمی کی کوشش کی ضرورت ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر غیروں کے ہاں دعوتوں کے مواقع پر بھی ایک ہی کھانے پر اصرار کیا جائے تو اقتصادی فوائد کے علاوہ اس سے پروپیگنڈا بھی بہت ہو سکتا ہے مثلاً جب کوئی کہے گا کہ میں ایک ہی کھانا کھاؤں گا، تو دوسرا شخص ضرور اس کی وجہ دریافت کرے گا کہ کیوں ایک ہی کھانا کھاؤ گے۔اس کا جواب یہ دے گا کہ اس وقت اسلام اور سلسلہ احمدیہ جن حالات میں سے گزر رہا ہے وہ بہت پریشان کن ہیں اور ان کیلئے یہ موقع بہت نازک ہے اس لئے میرا فرض ہے کہ اپنے آپ کو اس جنگ کیلئے تیار کروں جو اسلام اور سلسلہ کے وقار کیلئے ہمیں جلد لڑنی پڑے گی اور جفاکشی کی عادت ڈالنے اور چسکے سے بچنے کیلئے ہماری جماعت نے یہ تحریک کی ہے کہ رف ایک ہی کھانا کھایا جائے۔تو میزبان کے دل میں ضرور احساس پیدا ہوگا اور یہ بھی ایک رنگ کی تبلیغ ہو جائے گی اور اگر وہ بھی اس تجویز پر عمل پیرا ہو گا تو اس کی اقتصادی حالت بھی درست ہوگی۔میں دیکھ رہا ہوں کہ میری اس سکیم کا اثر غیروں پر بھی گہرا ہے۔بہت سے لوگ مجھ سے خود ملے ہیں اور کئی خطوط بھی آئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوؤں اور سکھوں میں بھی بعض لوگ تحریک کر رہے ہیں کہ ہم بھی اس پر عمل کریں اور میں نے دیکھا تو نہیں سنا ہے کہ بعض اخبارات نے بھی اس پر نوٹ لکھتے ہیں۔اس سکیم کے ضمن میں ایک اور بات ہے۔میں نے جو سادگی کی ہدایت کی ہے کہ کھانا سادہ اور لباس سادہ ہو اس کا اثر باہر کے احمدی تاجروں پر تو شاید اتنا نہ پڑے مگر قادیان کے تاجروں پر اس کا اثر زیادہ پڑے گا۔ایک طرف تو ہم ان سے چندوں کی اپیلیں کرتے ہیں اور دوسری طرف ان کے گاہکوں کو کھانے اور لباس میں کمی کرنے کی تعلیم دے کر ان کی بکری کم کرتے ہیں اس سے انہیں یقینا نقصان ہو گا۔مگر جب میں نے یہ تحریک کی تھی تو اس کا علاج