خطبات محمود (جلد 15) — Page 383
خطبات محمود ۳۸۳ سال ۱۹۳۴ء ایسے انگریزوں کو جانتے ہیں کہ جب انہیں معلوم ہو کہ کوئی قوم یا فرد اپنے جائز حقوق کیلئے جدوجہد کر رہا ہے تو وہ دھڑتے اور جرات کے ساتھ اس کی تائید کرتے ہیں۔میں ایسے انگریز افسروں کے نام بھی لے لیتا اگر مجھے یہ یقین ہوتا کہ میرے نام لینے سے ان کے راستہ میں کوئی مشکلات پیدا نہیں ہوں گی۔خود پنجاب گورنمنٹ میں بھی ایسے افسر ہیں جو ہمیشہ ہمارے ساتھ وفاداری کا سلوک کرتے چلے آئے ہیں اور جب بھی ہمیں مشکلات پیش آئی ہیں انہوں نے ہمارا ساتھ دیا ہے اور جب انہیں معلوم ہوا ہے کہ حکام ہمارے متعلق نا واجب سختی سے کام لے رہے ہیں تو انہوں نے اس کا ازالہ کیا ہے۔پس اگر کسی مسٹرہارڈنگ نے یہ کہا کہ ہم جماعت احمدیہ کی وفاداری کی کوئی قدر نہیں کرتے، تو ایسے بھی تو انگریزوں میں بہت سے افسر ہیں جو ہماری وفاداری کی قدر کرتے اور اسے عزت و عظمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔پس ایک شخص کے قول سے ہم بہت سے انگریز افسروں کے فعل کو کس طرح باطل کر سکتے ہیں۔مؤمن کا تو یہ کام ہے کہ وہ نیکی کو یاد رکھتا اور بدی کو بھول جاتا ہے۔پھر جبکہ ایسے انگریز افسروں کی کمی نہیں جو نیک کام کرتے اور ہمدردی اور خیر خواہی کے رنگ میں ضرورت پر مدد کرتے اور تکالیف کے ازالہ کی کوشش کرتے ہیں اور جب جانتے ہیں کہ حق ہمارا ہے تو وہ ہمیں دلوانے کی سعی کرتے ہیں اور بسا اوقات اپنا رستہ چھوڑ کر بھی ہم سے ہمدردی کرتے ہیں۔تو ایسی حالت میں چند کو تاہ بین انگریزوں کا فعل ہم پر ذرہ بھر بھی اثر انداز نہیں ہو سکتا۔دوسرے میرے نزدیک یہ شکایت کرنے والے کی اپنی غلطی ہے کیونکہ اس نے ہماری جماعت کی خدمات سے خود فائدہ اٹھانا چاہا جو کسی طرح درست نہیں۔ہم گورنمنٹ سے جو تعلق رکھتے اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہیں تو یہ اپنے کسی فائدہ کیلئے نہیں کرتے بلکہ اس لئے کرتے ہیں کہ ہمارا مذہب ایسا کرنے کا حکم دیتا ہے اور گورنمنٹ کا فرض ہے کہ وہ وفاداروں کا لحاظ کرے اور انہیں دوسروں پر ملازمت وغیرہ میں ترجیح دے مگر وہ ایسا کرتی نہیں۔حکومت کے بہت سے افسر قربانیوں کو نہیں دیکھتے، صرف گردو پیش کے خوشامدیوں پر ان کی نظر ہوتی ہے۔ان کی مثال بالکل وہی ہے جو ہمارے ملک میں مشہور ہے کہ ”اٹھاں ونڈے ریوڑیاں مُڑ مُڑ اپنیاں نوں۔یعنی ریوڑیاں بانٹنے والا اندھا اپنوں کو ہی ریوڑیاں دیتا ہے۔جس کسی سے ذاتی تعلقات ہوتے ہیں، اسے ملازمت وغیرہ میں ترجیح دے دی جاتی ہے۔اس کا یہ ہوتا ہے کہ ملک میں بے چینی پھیلی رہتی ہے اور گورنمنٹ پر لوگوں کے اعتماد کو نتیجه