خطبات محمود (جلد 15) — Page 339
خطبات محمود ۳۳۹ سال ۱۹۳۴ء خلاف واقعہ امر بھی تھا۔پس کارکنوں نے فوراً تحقیقات کرائی تاکہ اگر کسی نے یہ غلطی کی ہے تو اس سے گرفت کی جائے لیکن معلوم ہوا کہ کسی احمدی نے یہ الفاظ نہیں کہے ہاں انہیں یہ شکوہ تھا کہ باوا صاحب کو مسلمان کہا گیا۔اس میں شبہ نہیں کہ سکھ اس پر بھی برا مناتے ہیں مگر ہم تو مسلمان اچھی چیز کو سمجھتے ہیں اور ہمارے نزدیک مسلمان ہونا ایک عزت کی بات ہے نہ کہ مذمت کی بات۔ہمارے اور سکھوں کے اس اختلاف کی ایسی ہی مثال ہے جیسے برہمو سماج والے الہام کو بُرا سمجھتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ کیا خدا کی کوئی زبان ہے یا وہ بھی کوئی بولی بولتا ہے مگر ہم تو الہام کو سب سے بڑا انعام سمجھتے ہیں اور جب ہم کسی بزرگ سے متعلق یہ کہتے ہیں کہ اسے الہام ہوتا تھا تو اسے اللہ تعالٰی کا ایک مقرب بندہ سمجھتے ہیں۔اسی طرح کسی کو مسلمان کہنا ہمارے نزدیک کسی کی ہتک نہیں بلکہ اس کی عزت کا موجب ہے۔پس گو سکھ قوم کا یہ حق ہے کہ وہ کہے کہ تم جو کچھ کہتے ہو غلط کہتے ہو مگر وہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ ہم باوا صاحب کی ہتک کرتے ہیں۔پھر ہم انہیں مسلمان ہی نہیں بلکہ بزرگ اور ولی اللہ سمجھتے ہیں اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ بزرگ اور ولی اللہ کہنا کسی کی ہتک نہیں بلکہ عزت کی بات ہوتی ہے پس وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے ان کی ہتک کی۔غرض اصل واقعہ بالکل کچھ اور نکلا جس میں باوا صاحب کی ہرگز ہتک نہیں تھی مگر گورنمنٹ کے محکمہ نے یہ کارروائی کی کہ رپورٹ کرتے ہوئے لکھ دیا کہ احمدیوں نے فی الواقع ایسا کہا تھا حالانکہ یہ بات تحقیقات سے غلط ثابت ہو چکی تھی۔پھر اندر ہی اندر کوئی کارروائی ہوتی رہی جس کے ظاہر کرنے پر نہ ہم تیار ہیں اور نہ اس میں کوئی فائدہ ہے۔غرض صرف یہ تھی کہ سکھ قوم میں جوش پھیلے حالانکہ اگر سکھوں کو اشتعال دلانے والی کوئی بات ہوتی تو میں خود احمدیوں کو سزا دیتا۔ساتواں واقعہ: احراری اپنی مجلس میں ہماری جماعت پر طرح طرح کے اتہام لگاتے ہیں ، گندی سے گندی گالیاں دیتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہایت بُرے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔یہ رپورٹیں پولیس کی طرف سے جاتی ہیں مگر گورنمنٹ کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔اس پر قدرتی طور پر ہمارے بعض نوجوانوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ہم بھی ان کی تقریروں کے نوٹ لے لیا کریں چنانچہ بعض نے ایسا کیا وہ صرف نوٹ لیتے تھے ، زبانی گفتگو نہیں کرتے تھے۔ہمارے جلسوں میں بھی پولیس اور دوسرے لوگ