خطبات محمود (جلد 15) — Page 329
خطبات محمود ۳۲۹ سال ۱۹۳۴ء لینڈا کیوزیشن ایکٹ (LAND ACQUISITION (ACT) کے ماتحت اس زمین کا بڑا ٹکڑا چھین لیا۔بہتیرا شور کیا گیا کہ حکومت کو اور زمین مل سکتی ہے، ہمیں تو لوگ تعصب سے دیتے نہیں لیکن کچھ شنوائی نہ ہوئی۔اس واقعہ اور اُس واقعہ کو ملا کر دیکھ لو کہ کس طرح حکومت ہم سے سوتیلے پن والا سلوک کر رہی ہے۔ہماری مسجد کی زمین ضبط کرلی جاتی ہے اور احراری خلاف قانون ایک عمارت بنانا چاہتے ہیں تو پیش آرڈر دیا جاتا ہے کہ فوراً ان سے درخواست لے کر اجلاس کر کے اس تعمیر کی اجازت دی جائے۔چنانچہ ایک پولیس کے اعلیٰ افسر یعنی سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس اور ایک علاقہ مجسٹریٹ یہاں آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اپنے ممبروں کو حکم دیجئے کہ وہ فوراً اس مسجد کی تعمیر کی اجازت دے دیں حالانکہ وہ سمال ٹاؤن کمیٹی کس اہے جس سے ہمارے زور سے کام لیا جائے۔جس سمال ٹاؤن کمیٹی کو ہم سے حکم دلوا دلوا کر مجبور کرنا اور اس کے فرائض منصبی سے روکنا ہے، وہ کمیٹی نہیں بلکہ کھلونا ہے اور اس قابل ہے کہ اسے پھونک دیا جائے۔لطیفہ یہ ہے کہ ہمارے امن پسندوں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ چونکہ ہمیں امن پسندی کی تعلیم دی گئی ہے، اس لئے حکام کی خواہش کو ہمیں پورا کرنا چاہیئے۔اپنی جماعت کے ممبران کمیٹی پر زور ڈالا کہ یہ کام جلدی کر دیا جائے۔غرض صنادید حکومت کی خوشنودی مزاج کے حصول کیلئے انہوں نے یہ سب کچھ کیا مگر جو اس کا انعام ملا وہ بھی سن لو۔اس موجودہ جھگڑے کے پیدا ہونے پر ہمارے آدمیوں نے ڈپٹی کمشنر صاحب کے سامنے کہا کہ ہم تو ہمیشہ حکومت کے وفادار رہے ہیں۔مثلاً حکام کے کہنے کے مطابق ہم نے سمال ٹاؤن کمیٹی کے ممبروں پر زور دیا اور انہیں کہا کہ احرار کو مسجد کی تعمیر کی اجازت دے دینی چاہیئے تو اس پر ڈپٹی کمشنر صاحب نے کہا کہ نہ علاقہ مجسٹریٹ اور نہ سپرنٹنڈنٹ پولیس کو اختیار تھا کہ ایسا حکم کمیٹی کو دیتے۔یہ کہنے پر کہ سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس تو کہتے تھے کہ ڈپٹی کمشنر کا منشاء ہے کہ اگر اس جھگڑے کو چکایا نہ جائے تو فریقین کی زیر دفعہ ۱۰۷ ضمانتیں کی جائیں۔انہوں نے کہا ہے کہ جس شخص نے یہ کہا ہے کہ میں نے ایسا حکم دیا تھا وہ جھوٹ بولتا ہے۔اب ہمارے لئے عجیب مشکلات ہیں اگر ہم اس وقت انکار کرتے تو ہم باغی قرار دیئے جاتے اور پولیس کے افسر یہ رپورٹ کرتے کہ احمدی ہمارے ساتھ تعاون نہیں کرتے اور جب ہم نے ان کی بات مان لی تو ہم احمق اور بیوقوف قرار دیئے گئے اور کہا گیا کہ تم نے خود ہی یہ فیصلہ کیا ہے ہم نے تو کوئی ایسا حکم نہیں دیا۔پس ہم اگر ایک حکم کو مان لیں