خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 294

خطبات محمود ۲۹۴ سال ۱۹۳۴ء تشریح نہیں کی تھی۔اور آپ نے اس سے منع نہیں کیا تھا ہاں اجازت بھی نہ دی تھی۔کیونکہ اس کا ذکر ہی نہیں آیا۔چونکہ باوجود کمشنر صاحب کے یاد دلانے کے خان صاحب کا حافظہ اب بھی ان کے خط کی رپورٹ کی ہی تائید کرتا ہے اور ادھر کمشنر صاحب بھی مصر ہیں میں سمجھتا ہوں غلط فہمی اس سے پیدا ہوئی ہے کہ کمشنر صاحب نے صرف یہ کہا کہ اشتعال نہ پیدا ہو اور دل میں اس کا مفہوم یہ سمجھا کہ باہر سے آدمی نہ بلوائے جائیں اور خانصاحب نے خود حفاظتی کی اجازت کے ماتحت یہ سمجھا کہ بیشک باہر سے آدمی بلوائے جائیں۔یہ گفتگو گول مول ہوئی اور وضاحت کسی نے بھی نہ کی۔میرے نزدیک آئندہ ہمارے آدمیوں کو احتیاط کرنی چاہیے کہ ایسی گول مول گفتگو کبھی نہ کریں۔اگر خانصاحب کو پہلے کبھی ایسے ہاتھ لگے ہوئے ہوتے تو وہ کمشنر صاحب سے کہتے کہ آپ مجھے ایک لسٹ لکھوا دیں کہ ہمیں کیا کیا نہ کرنا چاہیئے۔میں وہ لسٹ مرکز میں بھجوادوں گا اور مجھے پورا پورا یقین ہے کہ حکومت کے ساتھ جماعت کی طرف سے پورا پورا تعاون کیا جائے گا۔بالکل ممکن ہے کہ اگر اس وقت تفصیل اللہ لکھوائی جاتی تو اس میں یہ بات نہ ہوتی۔یا اگر ہوتی تو ہمیں دھوکا نہ لگتا۔بہرحال یہ غلط فہمی ہوئی اور اس میں بھی حکومت کی غلطی ہے کیونکہ جب وہ ہم سے استمداد چاہتی ہے تو اس کا فرض ہے کہ کھول کر بتاتی کہ وہ کیا چاہتی ہے۔غرض حالات اسی طرح قائم رہے اور پندرہ اکتوبر تک نہ تو پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے اور نہ لوکل حکام کی طرف سے ہمیں کوئی اطلاع یا ہدایت موصول ہوئی پندرہ اکتوبر کے غریب مجھے بہت سے ایسے خطوط موصول ہوئے جن میں ذکر تھا کہ فساد کا اس موقع پر خطرہ ہے۔اس پر بارہ بجے کے قریب میں نے پرائیویٹ سیکرٹری کو بلا کر ہدایت کی کہ کار خاص کو اطلاع کردیں کہ جلسہ احرار کے موقع پر خود حفاظتی کے طور پر دو اڑھائی ہزار آدمی بلوالیں جو صرف ضلع گورداسپور کے ہوں۔یہ ہدایت ساڑھے بارہ بجے ناظم صاحب کار خاص کو ملی اس کے بعد میں نماز کیلئے چلا گیا نماز کے بعد کچھ لوگ ملاقات کیلئے آگئے۔اس کے بعد تین بجے کے قریب پرائیویٹ سیکرٹری نے اطلاع دی کہ مرزا معراج الدین صاحب سپرنٹنڈنٹ سی۔آئی۔ڈی لاہور کسی کام سے یہاں آئے تھے اور مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔مرزا صاحب مجھ سے ۱۹۱۷ء سے ملنے والے ہیں وہ دو دفعہ یہاں آچکے ہیں۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں آئے تھے اور آپ کے ساتھ نماز بھی ادا کی تھی۔اس وقت آپ بچے تھے۔ایک بہت