خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 263

خطبات محمود ۲۶۳ سال ۱۹۳۴ء کے اندر اور جلدی ختم کرنے کی کوشش کیا کریں۔بیسیوں غرباء میرے پاس شکایت کیا کرتے ہیں کہ ان کی درخواستوں پر غور نہیں کیا گیا اور گو ان میں سے اکثر غلط ہوتی ہیں مگر بعض سیمی بھی ہوتی ہیں اور جب میں خود تحقیقات کرتا ہوں تو ثابت ہوتا ہے کہ بعض جگہ کارکن سختی کرتے ہیں اور لوگوں سے درشت کلامی سے پیش آتے ہیں۔گو بعض حالات میں انسان سختی کرنے پر بھی مجبور ہوتا ہے۔مثلاً میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ وقت ضائع کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔دو منٹ ان کو ملاقات کا وقت دیا جاتا ہے مگر جب وہ آبیٹھتے ہیں تو ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹہ تک اُٹھنے کا نام نہیں لیتے۔سیکرٹری شور مچارہا ہوتا ہے کہ آپ کا وقت ختم ہو گیا ہے اب دوسروں کو بھی ملاقات کا موقع ملنا چاہیئے مگر وہ یہی کہتا جاتا ہے کہ مجھے تو آج ہی موقع ملا ہے میں نے انہیں نہیں چھوڑنا۔پھر وہ کوئی معقول بات نہیں کرتا کہ انسان اسے سنے یونہی ایک بات دہراتا چلا جاتا ہے۔مثلاً وہ یہ بتلانا چاہتا ہے کہ اس کا فلاں سے جھگڑا ہو گیا ہے تو وہ سیدھے طور پر نہیں کہے گا کہ میرا فلاں سے جھگڑا ہو گیا ہے اس کا فیصلہ کیا جائے بلکہ وہ ایک لمبا قصہ سنانا شروع کر دے گا اور کہے گا میں فلاں دن اپنے گھر سے نکلا جب گھر سے باہر آیا تو میں اپنی سوئی بھول گیا میں مڑ کر پھر گھر گیا تاکہ سوئی لے آؤں۔جب سوئی لے کر چلا تو بیوی نے آواز دی کہ کھانا تیار ہے کھانا تو کھا کر جاؤ، خیر میں نے کھانا کھالیا اُٹھا تو بچی بیمار تھی، اسے پیار کیا پھر گھر سے نکلا تو راستہ میں فلاں شخص مل گیا اس سے یہ یہ باتیں ہوتی رہیں، اتنے میں جب میں اسٹیشن پر پہنچا تو گاڑی کا وقت ہو گیا تھا مگر گاڑی لیٹ تھی کچھ دیر وہاں شہلا پھر گاڑی آگئی اس میں چڑھ بیٹھا اور فلاں سٹیشن پر اُترا جب اُتر کر میں فلاں شخص کے پاس گیا تو میں انے اس سے یہ بات کہی اس نے مجھے یہ جواب دیا اس پر بات بڑھ گئی اور لڑائی ہو گئی۔وہ آدھ گھنٹہ اسی لغو قصہ میں ضائع کر دیتا ہے حالانکہ اگر وہ چاہتا تو وہ دو منٹ میں اپنے کا حال بتا سکتا تھا مگر وہ اتنا لمبا ذکر کرے گا کہ طبیعت اُکتا جائے گی اور اس طوالت میں اسے اتنا لطف آئے گا کہ اگر غلطی سے کہہ دے کہ میں نے گھر سے پہلے بایاں پاؤں نکالا تھا تو کہے گا نہیں نہیں مجھ سے غلطی ہوئی میں نے بایاں نہیں بلکہ دایاں پاؤں نکالا تھا۔پھر پانچ منٹ کے بعد کہے گا اوہو مجھے یاد آگیا میں نے بایاں پاؤں ہی نکالا تھا حالانکہ مجھے اس بات سے کیا کہ نے گھر سے دایاں پاؤں نکالا تھا یا ہایاں۔تمہیں راستے میں روشن دین ملا تھا یا شمس الدین تم نے جو بات کہنی ہے وہ مختصر طور پر کہہ دو مگر وہ اس لغو گفتگو میں آدھ گھنٹہ ضائع کر دیتا ہے۔