خطبات محمود (جلد 15) — Page 224
خطبات محمود ۲۲۴ سال ۲۱۹۳۴ - چلا جائے۔چونکہ جہاں پانچ کیلئے کھانا پکایا گیا ہو وہاں چھٹا شخص اگر آجائے تو کوئی خاص تکلیف محسوس نہیں ہوتی اس لئے اس نے کہا یا رسول اللہ ! میری طرف سے اجازت ہے، یہ شخص بھی آجائے ہے۔تو شریعت کا حکم یہی ہے کہ جسے دعوت میں بلایا جائے وہی شریک ہو۔مگر میرے لڑکے کے ولیمہ کی دعوت میں ایک طبقہ ایسا شریک ہوا جو بن بلائے چلا آیا۔ان میں بعض مخلصین بھی تھے ممکن ہے اگر مجھے وہ یاد آجاتے تو میں خود ہی انہیں بلالیتا۔مگر چونکہ ان کا نام میرے ذہن میں نہ آیا اس لئے نہ بلا سکا۔کل مسجد میں ہی کئی لوگوں کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ اگر انہیں بلالیا جاتا تو اچھا ہوتا۔مگر سات آٹھ ہزار کی آبادی میں سے بعض کا نام رہ جانا قدرتی امر ہے حالانکہ ناموں کی فہرست جو میں لکھ سکتا ہوں، قادیان میں کوئی ایک آدمی اتنی لمبی فہرست نہیں لکھ سکتا۔مجھے لوگوں کے نام، ان کے پتے اور ان کی شکلیں بہت یاد رہتی ہیں۔مگر باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ نے میرا حافظہ بہت اچھا بنایا ہے، کئی لوگ رہ گئے حتی کہ کئی اچھے اچھے تعلق رکھنے والے رہ گئے۔مثلاً درد صاحب کا خاندان ہی رہ گیا حالانکہ درد صاحب کے خاندان سے ہمارے خاندان کا بہت پرانا تعلق ہے۔صوفی عبد القدیر صاحب جو مولوی عبداللہ صاحب سنوری کے لڑکے ہیں ان کا نام رہ گیا حالانکہ مولوی عبداللہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہایت عزیز تھے اور قدیم صحابہ میں سے تھے اور ان لوگوں کو ہم اپنے خاندان کا حصہ سمجھتے ہیں۔اسی طرح میرے بہنوئی عبداللہ خانصاحب ہیں، ان کا نام رہ گیا اور یہ نام فہرست کے آخر میں شامل کئے گئے۔تو انسان کبھی بھول جاتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ گو نام سب کے ذہن میں موجود ہوتے ہیں مگر انتخاب کرنا پڑتا ہے۔رسول کریم ایک دفعہ مال تقسیم فرمارہے تھے کہ ایک شخص رہ گیا۔ایک دوسرے شخص نے جو اس کا دوست تھا رسول کریم ﷺ سے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ بھی تو مومن ہے، اسے بھی کیا دیجئے۔رسول کریم خاموش رہے۔اس نے دوبارہ کہا آپ پھر خاموش رہے۔سہ بارہ تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں کبھی مومن کو چھوڑ دیتا اور ایک کمزور شخص کو مال دے دیتا ہوں۔اس لئے کہ تا کمزور شخص کو ٹھوکر نہ لگے ہے۔تو بعض دفعہ مومنوں کو چھوڑ دیا جاتا اور منافقوں کو لے لیا جاتا ہے تا انہیں ٹھوکر نہ لگے کیونکہ اگر مومن کو نہ بلایا گیا تو وہ کہہ دے گا اس میں کیا حرج ہے مگر منافق ڈھنڈورا پیٹتا پھرے گا کہ ہم احمدی ہیں، ہمیں کیوں نہیں بلایا گیا۔پس مومنوں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ