خطبات محمود (جلد 15) — Page 219
خطبات محمود ۲۱۹ سال ۱۹۳۴ء دار الفضل والے وہاں، دار البرکات والے اپنے ہاں، اسی طرح دوسرے محلوں والے اپنے اپنے محلوں میں، تو جو لوگ قابل اصلاح ہیں، ان کی اصلاح ہو جائے گی۔اور اجزاء کی اصلاح سے کل کی اصلاح خود بخود ہو جاتی ہے۔اسی طرح ہر شخص اگر اپنے گردو پیش کی اصلاح کرے تو سب کی خود بخود اصلاح ہو جاتی ہے۔ایک کام کرے تو دوسرا بھی اسے دیکھ کر کرنے لگ جاتا ہے۔اس کیلئے کسی بڑی قابلیت کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔ہر شخص اپنے گردو پیش اصلاح کئی کوشش کرے تو دوسروں کو بھی تحریک ہو جاتی ہے۔پس ان امور کو یاد رکھنا نہایت ضروری ہے۔ایک سال کے اندر ہماری بہت سی طاقت اس قسم کی اصلاح کرنے میں ضائع ہو جاتی ہے جسے محفوظ رکھنا ہمارا فرض ہے۔ہماری ترقی کیلئے اگر سو فیصدی طاقت کی ضرورت تھی ج خدا تعالی نے ہمیں دی اور اس میں سے اگر چالیس فیصدی ضائع ہو جائے تو یہ بہت بڑا نقصان ہے اور جتنی جلدی ترقی ہو سکتی تھی اس نقصان سے وہ پیچھے جاپڑے گی۔، جو پس احباب کے اندر بہت سی بیداری اور ہوشیاری کی ضرورت ہے۔اللہ تعالی توفیق دے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ہر ایک کے اندر یہ احساس پیدا ہو جائے کہ میں ہی ذمہ دار ہوں۔اسی احساس کے نتیجہ میں سوسائٹی کی اصلاح ہو سکتی ہے۔لیکن یہ بھی یاد رکھو کہ ذمہ داری کے معنی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے نہیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ وعظ و نصیحت کی جائے اور مرکز میں ذمہ دار افسران کو اطلاع دی جائے۔یہ نہیں کہ لٹھ لئے پھریں اور جس کسی میں کوئی نقص دیکھیں، اس کا سر پھوڑ دیں کیونکہ اصلاح فتنہ و فساد کی روح کو مٹانے سے ہو سکتی ہے۔اس نصیحت کے ساتھ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی ہمارے دوستوں کو توفیق دے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں اور تواتر و استقلال کے ساتھ ایسے رنگ میں کام کریں کہ کامیاب ہو سکیں اور دنیا میں اسلام کی صداقت پھیلانے میں کامیاب ہو جائیں۔الفضل ۹- اگست ۱۹۳۴ء) لہ مسلم کتاب الفضائل باب فی معجزات النبی ﷺ ه بخاری کتاب الصوم باب تعجيل الافطار