خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 173

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کر رہے ہوں اور اس میں حرج ہو۔جو بھی رقعہ لے کر آئے گا مجھے کام چھوڑ کر اس کی طرف یکھنا پڑے گا، رقعہ لینا پڑے گا اور اس طرح کام کا حرج ہوگا اور وقت ضائع ہو گا۔اگر ہے کیفیت کبھی کبھی پیش آئے تو خیر لیکن یہاں تو یہ حالت ہے کہ سارا سارا دن بچوں کے ہاتھ رقعوں پر رکھتے چلے آتے ہیں حالانکہ اگر اس طرح بھیجنے کی بجائے اس بکس میں ڈال دیئے جائیں جو پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں اسی غرض سے لگا ہوا ہے تو بھی مجھے پہنچ جاتے ہیں۔رقعے لینے کیلئے مجھے میں تمہیں بار اٹھنا پڑتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کچھ لکھنے بیٹھا ہوں، دو سطریں لکھی ہیں کہ کھٹ کھٹ ہوئی، اٹھ کر دروازہ کھولا تو ایک بچہ نے رقعہ دے دیا کہ فلاں صاحب نے دیا ہے۔پھر دروازہ بند کرکے بیٹھا اور دو سطریں لکھیں کہ پھر کسی نے آکر کھٹکھٹانا شروع کر دیا اور لاکر رقعہ دے دیا۔ایسے رقعوں کے متعلق میرا تجربہ ہے کہ ان میں سے ننانوے فیصدی ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے فوری طور پر بھیجنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔مسجد میں وہی بات کہی جاسکتی ہے یا بکس میں رقعہ ڈالا جاسکتا ہے ننانوے فیصدی بھی نہیں ہزار میں سے نو سو ننانوے ایسے ہوتے ہیں اور ان میں سے شاید ایک ایسا ہو جس کے متعلق کہا جاسکے کہ جائز طور پر بھیجا گیا ہے۔اور ایسے رقعوں کے متعلق میں نے کہا ہوا ہے کہ چاہے رات ہو یا دن میں جاگ رہا ہوں یا سوتا ہوں یا کوئی اور کام کرنے میں مصروف ہوں' ہر وقت مجھے پہنچائے جاسکتے ہیں اور ایسے موقع پر تو میں رقعہ بھیجنے والے کا ممنون ہوتا ہوں کہ میرے فرض کی طرف اس نے توجہ دلائی ہے۔لیکن یہ رقعے جن کا میں نے ذکر کیا ہے، فرض کی ادائیگی کے رستہ میں روک ہوتے ہیں۔ان میں سے فی ہزار نو سو ننانوے ایسے ہوتے ہیں ، جن میں دعا کی تحریک ہوتی ہے۔ان کو بھلا بکس میں کیوں نہیں ڈالا جاسکتا۔یا دوسرے وقت میں مجھے زبانی کیوں نہیں کہا جاسکتا یا اگر رقعہ ہی دینا ہو تو کیوں نہیں دیا جاسکتا۔جو رقعے بکس میں ڈالے جاتے ہیں ان کو یا تو میں پڑھتا ہوں یا کسی کو دے دیتا ہوں کہ دیکھ کر لسٹ بناوے۔اور ہر ایک کا نام اور غرض لکھ دے۔بہر حال وہ مجھے پہنچ جاتے ہیں۔اگرچہ میں نے بارہا کہا ہے کہ رقعوں سے زیادہ زبانی بات کرنی چاہیے اس سے بے تکلفی پیدا ہوتی ہے جو امام اور جماعت میں ہونی چاہیئے۔یہاں کوئی بادشاہت تو نہیں یہ تو محبت و پیار کا تعلق ہے، سونٹے یا تلوار کا نہیں اور ایسے تعلق کیلئے بے تکلفی ضروری ہے اس لئے جب ملنے کا موقع ہو تو اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہ سکتے ہیں اور دعا کیلئے اطلاع دے سکتے ہیں۔پہلے بعض لوگ مسائل بھی دعا