خطبات محمود (جلد 15) — Page 167
خطبات محمود 142 سیال ۱۹۳۴ء۔میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ عشق و محبت سے بعض دفعہ انسان وہ کچھ کرجاتا ہے جو دوسری صورتوں میں ہرگز نہیں کر سکتا۔ایک عورت کے متعلق مشہور ہے کہ اس کا بچہ عقاب لے گیا اور ایک پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھ گیا۔جب اس عورت کو معلوم ہوا تو وہ دیوانہ وار دوڑی اور اس پہاڑ پر چڑھ گئی۔چوٹی پر پہنچ کر جب اس نے بچہ کو لے لیا اور اس کے ہوش وحواس ٹھکانے آئے تو اس نے چلانا شروع کر دیا کہ مجھے کسی طرح نیچے اُتارا جائے حالانکہ چڑھنا مشکل ہوتا ہے اور اُترنا آسان مگر اس کیلئے دشوار گزار پہاڑی پر چڑھنا آسان ہو گیا اور اترنا مشکل۔آخر لوگوں نے بڑی مشکلوں سے اسے نیچے اُتارا۔جب دنیا کی چھوٹی چھوٹی محبتیں اس قسم کا تغیر کر دیتی ہیں کہ انہیں دیکھ کر حیرت آتی ہے تو اگر اللہ تعالیٰ کا عشق ہمارے دلوں میں پیدا ہو جائے تو کیوں اس سے دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا نہیں کیا جاسکتا۔پس اصل چیز جس کے ساتھ دنیا کے مردہ جسم میں زندگی کی روح ڈالی جاسکتی ہے اور جس سے تغیر عظیم پیدا کیا جاسکتا ہے وہ عشق اور محبت الہی ہے۔یہی پیدا کرنے والی چیز ہے اور جب یہ پیدا ہو جائے تو پھر نصیحتوں کی ضرورت نہیں رہتی۔کون ماں کو یہ نصیحت کیا کرتا ہے کہ جب تیرا بچہ بیمار ہو تو اس کی خبر گیری کیا کر، بھوگ لگے تو اسے دودھ پلایا کر گندہ ہو جائے تو اسے نہلایا کر۔ہر ماں یہ کام کرتی ہے مگر اس لئے نہیں کہ کوئی اسے کہتا ہے بلکہ اس لئے کہ اس کے دل میں بچہ کی محبت پیدا ہو جاتی ہے اور محبت خود بخود تمام کام کراتی چلی جاتی ہے۔پیدا میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ سچا عبد بننے کی کوشش کرے اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا کرے، یہاں تک کہ محبت الہی ہر چیز پر غالب آجائے۔جب محبتِ الہی کا انسانی دل پر غلبہ ہو جائے تو پھر تقویٰ بھی پیدا ہو جاتا ہے، صفائی قلب بھی پیدا ہو جاتی ہے، رفت اور گداز بھی پیدا ہو جاتا ہے، تبدیلی اعمال بھی پیدا ہو جاتی ہے، ذہن میں بھی صفائی آجاتی ہے، عقل میں بھی تیزی آجاتی ہے اور پھر انسان کی ہمت بلند حوصلہ وسیع اور ارادے پختہ ہو جاتے ہیں۔اور اگر عشق نہ ہو تو ایسا انسان نست بیل کی طرح ہوتا ہے کہ جب تک اسے چابک لگتا رہے، وہ چلتا رہتا ہے اور جب چابک مارنا چھوڑ دو تو وہ ٹھہر جاتا ہے۔ایسے بیل کو کون زمیندار پسند کرتا ہے۔اسی طرح اس بندے کو بھی اللہ تعالی پسند نہیں کرتا جسے نصیحت ہوتی رہے تو کام کرتا رہے اور جب ذرا سی دیر کیلئے یاد دہانی ترک کر دی جائے تو وہ کام کاج چھوڑ کر بیٹھ جائے۔ایسے انسان کو نہ خود فائدہ ہوتا ہے اور نہ اس کا آقا ہی اس پر خوش ہوتا ہے کیونکہ