خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 160

ات 14۔سال ۱۹۳۴ء روده محبت الہی بھی شامل ہو لیکن چونکہ لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے اس لئے وہ ظاہری اعمال کو لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔اعمال بھی اچھی چیز ہیں کیونکہ بغیر جسم کے روح بھی کام نہیں دیا کرتی لیکن اصل چیز روح ہی ہے، جسم درجہ کے لحاظ سے اس سے نیچے ہے۔جس طرح دودو برتن کے بغیر نہیں رہ سکتا لیکن کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اصل مقصود برتن ہوتا ہے بلکہ اصل چیز ہوتی ہے۔اسی طرح انسانی اعمال اور تقویٰ اللہ کا تعلق ہے۔دودھ تو خواہ زمین پر رگر جائے ، پھر بھی انسان کچھ نہ کچھ زبان سے چاٹ سکتا ہے لیکن برتن اگر خالی ہو تو اس میں سے ایک قطرہ دودھ بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا۔پس اہم چیز وہی ہے جو مغز ہے اور یہی چیز ہے جسے اپنے اعمال میں مد نظر رکھنا چاہیے اس لئے خدا تعالٰی نے فرمایا- وَ لِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ تقویٰ کا لباس بہر حال بہتر ہے کیونکہ اس سے وہ نتائج پیدا ہوتے ہیں جو ظاہری لباس سے حاصل ہوتے ہیں۔یعنی عیبوں پر پردہ پڑتا اور روحانی خوبصورتی اور زینت حاصل ہوتی ہے۔معمولی درجہ پر انسانی عیوب ڈھانپے جاتے ہیں اور جب انسان بلند مقام پر پہنچتا ہے تو بشری کمزوریاں بھی اللہ تعالیٰ کی ستاری کی چادر کے نیچے آجاتی ہیں۔بشری کمزوریاں بعض دفعہ اللہ تعالی خود نبیوں سے کرواتا ہے تا لوگوں پر ظاہر رہے کہ یہ بشر ہی ہیں۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ ہے۔تُو نے انہیں کیوں اجازت دی؟ مگر یہ شرعی نہیں بلکہ اجتہادی کمزوری ہوتی ہے اور یہ بعض دفعہ اللہ تعالٰی خود کراتا ہے تا نبی کی انسانیت ظاہر کرے اور بتائے کہ انسان خواہ کتنا ہی بلند مقام پر پہنچ جائے، عالم الغیب نہیں ہوتا۔پس يُوَارِی سَواتِكُمْ میں دونوں باتیں داخل ہیں، عیب بھی اور بشری کمزوریاں بھی۔بعض طبائع میں جوش ہوتا ہے وہ نیک ہوتے ہیں مگر لوگوں سے لڑ تے ہیں، گالیاں دیتے ہیں اسی طرح اور بھی بہت سی کو تاہیاں اور کمزوریاں انسانوں میں پائی جاتی ہیں۔بعض طبائع میں مخل ہوتا ہے وہ نیکی میں ترقی کر رہے ہوتے ہیں لیکن مال دیتے وقت محسوس کریں گے۔ایک عرصہ تک یہ حالت رہتی ہے اور جب اس حالت میں وہ ترقی کر جاتے ہیں تو بشری نقائص ان میں ظاہر ہونے شروع ہو جاتے ہیں ان سے ، حالتوں میں تقویٰ اللہ عیوب کو ڈھانپتا ہے اور انسان کو مزین بنادیتا ہے۔پس اگر کوئی چیز انسان کو کامل طور پر عیبوں سے پاک کر کے خوبصورت بناتی ہے تو وہ تقویٰ ہی ہے۔ابتدائی حالت میں جب عیب ہوں تو تقویٰ انہیں ڈھانپ دیتا ہے اور جب