خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 9

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء لوگ اتنے گندے نہیں ہیں جتنے تم سمجھتے ہو۔اگر ان لوگوں کو صیقل کیا جائے تو وہ روشن ستارے بن سکتے ہیں۔پس اس سال کا پروگرام میں یہی تجویز کرتا ہوں کہ تبلیغ کے علاوہ قربانی کا اعلیٰ نمونہ دکھاؤ۔دوست ماریں کھائیں، گالیاں کھائیں مگر صبر کریں۔کوئی مسیحیت ایسی نہیں جو اس کے بغیر پھیلی ہو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کہ وہ بھی مسیح تھے، حضرت مسیح ناصری اور مسیح محمدی اور بھی خدا جانے کتنے مسیح گزرے ہیں مگر سب جمالی رنگ میں تھے دعاؤں کے ساتھ مخالفوں کا مقابلہ کرتے تھے تلوار سے نہیں ماریں کھا کر جیتے اور یہی ہمارے متعلق ہوگا۔جو اس کیلئے تیار ہے وہی اسلام کی فتح کیلئے کوشش کرتا ہے۔اتنی ماریں کھاؤ اور اتنی گالیاں سنو کہ دنیا مان جائے کہ روئے زمین پر اتنی ماریں اور گالیاں کھانے والی کوئی دوسری قوم نہیں پھر خود بخود لوگ ہدایت کی طرف آجائیں گے اور ان کے قلوب فتح ہو جائیں گے۔یوم التبلیغ کے موقع پر غالباً جماعت لاہور کے بعض دوست کسی گاؤں میں گئے تو گاؤں والوں نے انہیں مارا۔اور بعض اشیاء چھین لیں کسی کی پگڑی کسی کا گلاہ اور کسی کی کوئی اور چیز چھینی گئی مگر وہ جب واپس آرہے تھے تو ایک شخص قریباً ایک میل سے بھاگتا ہوا آکر ان سے ملا اس نے کوئی چیز پکڑی ہوئی تھی اور روتا ہوا یہ کہہ رہا تھا یہ لے لو اور ہمارے گاؤں والوں کیلئے بددعانہ کرنا انہوں نے بہت ظلم کیا ہے۔یہ قلب کی فتح تھی جس وقت ہمارے دوست ماریں کھارہے تھے، فرشتے ان کی فتح کے سامان کر رہے تھے۔یہی چیز ہے جس سے تم جیت سکتے ہو۔ہیڈ ماسٹروں کا فرض ہے کہ اپنے طالبعلموں کے قلوب میں یہ بات پیدا کریں۔پریذیڈنٹ اپنی اپنی جماعت میں اور ناظر تمام جماعت میں یہ جذبہ پیدا کریں۔اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تلوار سے ہی ہمیشہ کامیابی ہو سکتی ہے، پس اسی تلوار کو چلاؤ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا الہام ہے کہ فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے۔رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالی نے فرمایا تھا کہ ہم نے تیرے لئے لوہا اُتارا ہے ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیلئے فرشتوں کی تلوار فرمایا۔اس لئے وہاں لوہے کی تلوار سے کام لیا گیا اور یہاں فرشتوں کی تلوار سے کامیابی ہوگی۔پس فرشتوں کو کام کرنے دو۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب انسان خود ہاتھ اُٹھائے تو فرشتے ہٹ جاتے ہیں۔ایک دفعہ ایک شخص دوسرے کو بُرا بھلا کہہ رہا تھا جب دوسرا بھی جواب دینے لگا تو آپ نے فرمایا کہ اب تک اس کی طرف سے فرشتہ