خطبات محمود (جلد 15) — Page 143
خطبات محمود ۱۴۳ سال ۱۹۳۴ میں اس کے متعلق یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ یہ میری منشاء کے خلاف ہے۔فیض باغ میں احمدی ہیں اور ان کے گھروں پر تبلیغ شروع کی گئی ہے حالانکہ میں نے جو تجویز منظور کی تھی اس میں تھا کہ دوسروں کے گھروں میں انتظام کیا جائے جن کی ہمدردی دوستانہ کے رنگ میں حاصل کی جائے۔اور اگر یہ کوئی علیحدہ تجویز ہے تو اگرچہ تبلیغ کیلئے جتنی بھی نئی راہیں نکالی جائیں اچھا۔ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ جو سکیم میرے سامنے پیش کر کے منظور کرائی گئی تھی، اسے بالکل نظر انداز کر کے اور اس کے کسی بھی حصہ پر عمل کئے بغیر اسے ترک کر کے ایک نئی راہ اختیار کرلینے کے کیا معنی ہیں؟ کامیابی ہمیشہ مجوزہ طریق پر کام کرنے اور اسے منتظم صورت میں سرانجام دینے سے ہوتی ہے۔یہ بے ضابطگی ہے کہ مجوزہ سکیم کو بالکل ترک کر کے نئے رنگ میں کام شروع کر دیا جائے۔مگر قطع نظر اس سے کہ دوستوں نے اسی کو پسند کیا اور اسی پر عمل شروع کرنا مناسب سمجھا اور تبلیغ جس رنگ میں بھی ہو، اچھی ہے۔میں ایک افسوسناک رپورٹ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔سیکرٹری تبلیغ نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جن دوستوں نے مدد کا وعدہ کیا تھا، وہ پورے طور پر جمع بھی نہیں ہوتے رہے اور اردگرد علاقہ سے تو کیا پاس پاس گھروں والے احمدی احباب بھی شامل نہیں ہوئے اور جن کے ذمہ یہ لگایا گیا تھا کہ غیر احمدیوں کو ساتھ لائیں، وہ بجائے کسی نظام کے ماتحت ان کو لانے کے یونہی آوازیں دے دیتے تھے کہ تقریر شروع ہوتی ہے ، لوگ آکر سنیں حالانکہ اس طرح آنے والوں کے متعلق کوئی نہیں جانتا کہ کون شریف ہے اور کون شرارتی، کسے سنانا مفید ہو سکتا ہے اور کسے نہیں اور یہ دونوں ر نجدہ امور ہیں۔کہ اول تو ان دوستوں نے ابتداء میں ہی کوئی دلچسپی نہیں لی اور جلسہ میں آگر شامل نہیں ہوتے رہے جن کی امداد کام کو وسعت دینے کیلئے ضروری تھی اور دوسرے یہ کہ جس طریق پر لوگوں کو لانا چاہیے تھا نہیں لائے۔لاہور کے دوسرے احمدیوں پر کوئی الزام نہیں جس صورت میں کہ ہمسایہ میں رہنے والے دوست بھی نہیں آتے رہے یا قلیل تعداد میں آئے اور یہ نہایت ہی افسوسناک بات ہے۔میں سمجھتا تھا کہ میرے تین خطبات کے بعد جو میں نے لاہور میں پڑھے ہیں اور اس جلسہ کے بعد جو میری موجودگی میں کیا گیا دوستوں میں بیداری پیدا ہو چکی ہوگی اور وہ تندہی سے کام کرنے لگ گئے ہوں گے مگر سیکرٹری تبلیغ کی رپورٹ سے معلوم ہوا کہ میرا اندازہ صحیح نہ تھا۔بعض دفعہ پرجوش انسان مایوسی کا پہلو بھی لے لیتا ہے اس لئے میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ