خطبات محمود (جلد 15) — Page 132
خطبات محمود باس سال ۱۹۳۴ء ہیں۔پس جس کے دل میں خدا کی محبت پیدا ہو جاتی ہے، وہ باوجود بیمار اور کمزور نظر آنے کے تندرست ہوتا ہے کیونکہ وہ تندرستی کی طرف آرہا ہوتا ہے اور تھوڑے عرصہ میں مکمل طور پر تندرست ہو جائے گا۔پس یاد رکھو کہ تبلیغ اور تسلسلہ حقہ کی تبلیغ سب پہلو اپنے اندر رکھتی ہے اور بہترین کام یہی ہے۔اس لئے میں متواتر جماعت کو اس طرف متوجہ کرتا رہتا ہوں اور لاہور کی جماعت کو خاص طور پر اس طرف توجہ دلاتا رہتا ہوں کیونکہ یہاں میں بار بار آتا ہوں۔یہاں میری ایک شادی بھی ہوئی ہے اس لحاظ سے مجھے یہ بھی ایک قسم کا اپنا وطن ہی معلوم ہوتا ہے مگر افسوس ہے کہ دوستوں نے میری طرف سے بار بار توجہ دلائے جانے کے باوجود ابھی تک وہ رنگ اختیار نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا اور جب بھی میں نے غور کیا ہے اسی نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ کمزوری جماعت کی طرف سے ہے وگرنہ اللہ تعالٰی نے ہماری ترقی کے رستے کھول رکھے ہیں۔میں نے دیکھا ہے جو لوگ تبلیغ میں لگے رہتے ہیں، انہیں کامیابی بھی حاصل ہو جاتی ہے کیونکہ وہ ایسے طریق اختیار کرتے ہیں جن سے اچھے نتائج پیدا ہو سکیں۔مگر بعض لوگ منہ سے ایک دفعہ بات کرنا ہی کافی سمجھ لیتے ہیں اور جب ان کی بات نہ مانی جائے تو پھر ناراض ہو کر الگ ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کوئی سنتا تو ہے نہیں، سنانے کا کیا فائدہ میں پھر جماعت کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ تبلیغ میں اپنی بھی اور دوسروں کی بھی تربیت شامل ہے۔جسے تبلیغ کی جائے وہ اگر احمدی نہ بھی ہو تو بھی اس کے اندر کچھ نہ کچھ تغیر ضرور پیدا ہو جائے گا۔وہ عبادت اور دعا شروع کردے گا سلسلہ کے خلاف شرارت اور بد زبانی کرنا چھوڑ دے گا۔پس دوستوں کو صحیح طریق سے اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔جو لوگ مواقع سے بہتر فائدہ نہیں اُٹھاتے ان کے دلوں پر زنگ لگ جاتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے مہیا کردہ سامانوں سے فائدہ اُٹھانا بہت ضروری ہوتا ہے۔میں لاہور کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ سنجیدگی سے اس طرف دھیان دیں کیونکہ جو لوگ باتیں سنتے مگر ان پر عمل نہیں کرتے، ان کے قلوب زنگ آلود ہو جاتے ہیں۔میں نے یہاں اتنی دفعہ دوستوں کو ان کے فرائض کی طرف متوجہ کیا کہ اب بھی اگر انہوں نے توجہ نہ کی تو ان کے دلوں پر زنگ لگ جائے گا۔سوتے ہوئے انسان کو نماز کیلئے جگانے کی خاطر تم ایک آواز دیتے ہو، دو تین دیتے ہو لیکن جب دیکھتے ؟ کہ وہ ضد سے لیٹا ہوا ہے تو اسے چھوڑ دیتے ہو کہ اگر وہ دیدہ دانستہ عبادت سے محروم رہنا ہو