خطبات محمود (جلد 15) — Page 133
خطبات محمود ١٣٣٠ سال ۱۹۳۴ء چاہتا ہے تو رہے۔اسی طرح جن لوگوں کو اللہ تعالی بیدار کرتا ہے اور وہ توجہ نہیں کرتے پھر وہ ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔پس ضروری ہے کہ اس طرف توجہ کی جائے اور تبلیغ کا طریق اختیار کیا جائے۔لاہور میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی جماعت ہے اس وقت بھی کئی سو دوست یہاں موجود ہیں اور کئی سو ایسے ہوں گے جو دفاتر میں چھٹی نہ ہونے یا بہت دور ہونے کی وجہ سے شامل نہیں ہو سکے۔میں سمجھتا ہوں یہاں کم از کم دو ہزار کے قریب احمدی ہوں گے اور اتنی بڑی جماعت قادیان سے باہر جہاں 4 ہزار احمدی ہیں) کہیں نہیں ہوگی مگر اتنی بڑی جماعت سے اتنا فائدہ نہیں اُٹھایا جاتا جتنا اُٹھایا جانا چاہیئے۔اس کا ایک طریق یہ ہے کہ میری موجودگی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے کارکن ایک اجلاس کریں اور پھر میری موجودگی میں ایک جنرل اجلاس کیا جائے اور ایک سکیم تجویز کر کے ہر شخص کے ذمہ ایک کام لگایا جائے۔یہ طریق کام کرنے کا ہے لیکن اگر ہر شخص یہ سمجھ لے کہ ”تورا اشنان سو مورا اشنان تو پھر کچھ نہیں ہو سکتا۔جماعت کے امراء کا فرض ہے کہ وہ دیکھیں ہر فرد جماعت کام کر رہا ہے یا نہیں اور جو نہ کریں انہیں سمجھائیں، تنبیہ کریں اور پھر بھی کوئی سُستی ترک نہ کرے تو میرے پاس رپورٹ کریں۔عضو معطل ترقی میں روک ہوتا ہے اور اس کا کاٹ دیا جاتا ہی مفید ہوتا ہے۔مگر جب تک ہر فرد تک امیر جماعت پہنچتا اور اسے بیدار کرنے کی کوشش نہیں کرتا، اُس وقت تک سرا موردِ الزام نہیں ٹھر سکتا۔میں نے دیکھا ہے عام طور پر امراء افراد کی حالت سے واقف ہی نہیں ہوتے حالانکہ ابھی جماعتیں چھوٹی چھوٹی ہیں۔جلسہ کے موقع پر جب امراء جماعتوں کو مجھ سے ملاقات کرانے کیلئے لاتے ہیں تو چند بڑے بڑے آدمیوں کا نام بتا کر باقیوں کے متعلق دوسروں سے کہتے ہیں کہ ان کا تعارف کرائیں۔میں جماعت کے کم سے کم دس ہزار افراد سے واقف ہوں اور کوئی ایسی جماعت نہیں ہے جس میں دس ہزار آدمی ہوں بلکہ کوئی جماعت تین چار ہزار کی بھی نہیں سوائے قادیان کے جہاں ۶ ہزار احمدی ہیں۔مگر امراء کی واقفیت کا یہ حال ہے کہ سو پچاس کی جماعت میں سے بھی صرف نصف کے حالات سے آگاہ ہوتے ہیں۔امراء کا فرض ہے کہ ہر شخص کے کام اور اس کے حالات سے آگاہ ہوں، ساری جماعت کے ماہوار اجتماع کا انتظام کریں اور سب دوستوں سے شناسائی پیدا کریں۔وہ ایک دفعہ بھولیں گے، دوسری دفعہ بھولیں گے لیکن آخر ان کو یاد ہو جائے گا۔حکیم محمد حسین صاحب مرحوم احباب