خطبات محمود (جلد 15) — Page 124
خطبات محمود ۱۲۴ سال ۱۹۴۳۳۴ء رکھتے اور نیک سلوک کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔اگر اس قوم کے شرفاء اعلیٰ نمونہ دکھا سکتے ہیں جن کا مذہب مرورِ زمانہ کی وجہ سے اپنی صحیح شکل کھو بیٹھا ہے تو اس قوم کے شرفاء کو تو بدرجہ اوٹی زیادہ اعلیٰ نمونہ دکھانا چاہیئے جس کا مذہب صحیح شکل میں موجود ہے۔پس ہماری جماعت کے افراد پر کسی موقع پر بھی کسی صورت میں یہ الزام نہیں آنا چاہیئے کہ وہ ہندو، سکھ یا عیسائی سے حسن سلوک کا برتاؤ نہیں کرتے۔ہاں یہ اور بات ہے کہ جہاں مسلمانوں کے حقوق کا سوال پیدا ہو گا وہاں ہمیں مسلمانوں سے تعلق رکھنا پڑے گا کیونکہ علاوہ سیاسی اتحاد کے مذہبی لحاظ سے بھی ہمارا مسلمانوں سے سب سے بڑھ کر اتحاد ہے اور ہمارا ان سے ایسا ہی تعلق ہے جیسا کہ جسم کے دو ٹکڑے۔اور باوجود اس کے کہ وہ اسلام سے دُور ہیں ایسے عقائد اختیار کئے ہوئے ہیں جو اسلام کی جڑوں پر تبر کا حکم رکھتے ہیں، ہم انہیں نظر انداز نہیں کرسکتے کیونکہ ان کے اور ہمارے فوائد بہت حد تک یکساں ہیں۔مگر باوجود اس اتحاد کے جو ہمارا مسلمانوں سے ہے، ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہم صلح و آشتی کیلئے پیدا کئے گئے ہیں اور ہم نے نہ صرف لوگوں سے انصاف کرنا ہے بلکہ ان سے ہمدردی کرنی اور ان کی تکالیف میں غمگساری بھی کرنی ہے۔پس ہمیں ان لوگوں کے اعلیٰ اخلاق کو دیکھ کر کوشش کرنی چاہیے کہ ان سے زیادہ اعلیٰ نمونہ دکھائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی یہی طریق عمل تھا۔ایک دوست نے سنایا کہ ایک دفعہ ہندوؤں میں سے ایک شدید مخالف کی بیوی سخت بیمار ہو گئی، طبیب نے اس کیلئے جو دوائیں تجویز کیں ان میں مُشک بھی پڑتا تھا جب کہیں اور سے اسے کستوری نہ ملی تو وہ شرمندہ اور نادم سا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آیا اور آکر عرض کیا کہ اگر آپ کے پاس مشک ہو تو عنایت فرمائیں۔غالباً اسے ایک یا دو رتی مُشک کی ضرورت تھی مگر اس کا اپنا بیان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مشک کی شیشی بھر کر لے آئے اور فرمایا آپ کی بیوی کو بہت تکلیف ہے، یہ سب لے جائیں۔تو در حقیقت اخلاق فاضلہ ہی ایک ایسی چیز ہے جو دوسرے کے دل میں محبت پیدا کرتی ہے۔اگر ہمارے دل میں ہمدردی ہو تعاون کا مادہ ہو، انکسار پایا جاتا ہو تو اس سے بہت جلد لوگوں کے قلوب مسخر ہو جاتے ہیں۔اپنے حقوق کی حفاظت کیلئے جدوجہد کرنے سے انسان کی دنیوی زندگی آرام سے کٹتی ہے اور دوسروں سے ہمدردی کر کے آخرت کیلئے ذخیرہ جمع کرتا ہے۔ہم اگر اپنے حقوق کیلئے لڑیں گے