خطبات محمود (جلد 15) — Page 5
خطبات محمود سال ۶۱۹۳۴ گے وہ بھی دریافت کر کے ان کی اصلاح کی جائے۔اس کے بعد میں اس امر کی طرف احباب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالی کے فضل سے ہماری دنیا کیلئے ایک اور سال چڑھا ہے یوں تو ساری دنیا کیلئے ہی چڑھا ہے مگر ہمارے لئے ہر ایک سال زیادہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ہر سال ہمیں زمانہ نبوت سے جو برکات کا زمانہ ہوتا ہے دور لے جا رہا ہے اور اس سے ہم جتنا جتنا دور ہوں اسی قدر گھبراہٹ اور فکر ہم میں زیادہ ہونا چاہیے کہ ابھی سے اس کیلئے تیاری شروع کردیں اور اسے پہلے سالوں سے بھی زیادہ مبارک بنانے کی کوشش کریں۔اگر ہم ہر سال اپنی تنظیم میں ایک اصلاح کرلیں تو یقیناً بہت بڑے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔پچھلے سالوں میں کوئی نہ کوئی بات میں بتاتا رہا ہوں کہ اختیار کی جائے اور ان میں سے ایک تو ایسی ہے جو ہر سال کے لئے ہے یعنی تبلیغ۔بیعت اللہ تعالی کے فضل سے اس سال جلسہ پر پہلے سے زیادہ ہوتی ہے۔ساڑھے تین صد کے قریب عورتوں نے بیعت کی ہے اور مردوں کی تعداد جس روز مجھے بتائی گئی، پونے چار سو تھی۔اس کے بعد بھی پچاس، ساٹھ نے بیعت کی ہے اور اس طرح سوا چار سو کے قریب ہو گئی۔یہ ساری مل کر قریباً آٹھ سو ہوتی ہے۔یہ اللہ تعالٰی کا فضل ہے کہ ہر سال بیعت پہلے سے زیادہ ہوتی ہے۔مگر دورانِ سال میں بیعت کا جو سلسلہ ہے اسے بھی بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔اگر بیعت کرنے والوں کی تعداد کو پوری طرح محفوظ کر لیا جائے۔مثلاً جو لوگ مسجد میں بیعت کرتے ہیں ان کے نام محفوظ نہیں رکھے جاتے۔یا جو عورتیں گھر میں بیعت کر جاتی ہیں ان سب کو اگر شامل کرلیا جائے تو تین، چار ہزار کے قریب بیعت ہر سال ہوتی ہے اور بچوں وغیرہ کو ملا لیا جائے تو چھ سات ہزار تک یہ تعداد پہنچ جاتی ہے۔یہی ہماری بیعت کی اوسط ہے لیکن یہ کوئی بڑی اوسط نہیں۔جو کام ہمارے ذمہ ہے، اس کے لحاظ سے یہ بالکل قلیل ہے۔اپنی ترقی کیلئے ہمیں جو بات مد نظر رکھنی چاہیے وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ تین سو سال میں سب لوگ احمدی ہو جائیں گے راہ اور نہ ہونے والے ان کے توابع ہونگے۔اس تین سو سال میں سے پینتالیس سال گزر چکے ہیں ۱۸۸۹ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت لی ہے۔اور گیارہ جمع چونتیس کل پینتالیس سال ہوتے ہیں۔اور اگر دعوے کو لیا جائے تو تینتالیس سال ختم ہو گئے۔اگر بیعت کو لیا جائے تو پینتالیس سال گویا ہمارے لئے کام کرنے کے اب صرف دو سو پچپن سال باقی رہ گئے۔مگر ہماری ترقی کیلئے یہ -