خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 100

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء لئے کیا گیا ہے کہ غرباء اور حاجت مندوں پر خرچ کرو۔کیا ان تمام نصیحتوں کا جو میں نے تمہیں کی ہیں تم پر یہی اثر ہوا ہے کہ میرے ہی سامنے اور مجھ پر ہی اس کی خلاف ورزی کرنے لگے۔پھر بھی جب اُس نے بہت اصرار کیا تو پھر آپ نے کہا کہ اول تو مجھے کوئی ضرورت ہی نہیں لیکن اگر ہو بھی تو تمہیں حق ہی کیا ہے کہ مجھے دو۔یہ بیت المال کا روپیہ ہے اور غریبوں کیلئے ہے۔اس ملاقات کا ساری عمر ہارون الرشید پر اثر رہا۔وہ کہا کرتا تھا کہ ایک ہی شخص ہے جسے مل کر معلوم ہوا کہ انسان ایک ایسے مقام پر بھی پہنچ سکتا ہے جہاں اسے بادشاہوں کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہوتی ہے۔حالانکہ وہ بزرگ پہلے ڈاکو تھے اور قاتل تھے۔یہ اصلاح باہر سے آئی مگر ایک ہی دفعہ کان میں ایک آیت پڑنے سے ہو گئی۔پہلے سارا قرآن پڑھنے سے بھی کوئی اثر نہ ہوتا تھا مگر جب وقت آگیا تو ایک آیت سے ہی حالت بدل گئی۔تو یہ دو اصلاحیں ہیں جو بغیر مجاہدہ کے ہو سکتی ہیں۔لیکن ایک اصلاح مجاہدہ سے تعلق رکھتی ہے اور اس کیلئے بعض دفعہ سارے اعمال میں مجاہدہ کی ضرورت ہوتی ہے اور بعض دفعہ کسی ایک ہی میں۔ایک شخص نے فلسفیانہ طبیعت پائی ہے اور وہ ہر بات میں یہی کہتا ہے کہ میری عقل کو تسلی دو۔ایسے شخص کیلئے ہر قدم پر مجاہدہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اور ایسی اصلاح کا محتاج انسان اگر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا رہے اور خیال کرے کہ میں ایمان تو لے آیا ہوں، اب خود ہی اصلاح ہو جائے گی تو یہ اس کی غلطی ہوگی۔اگر محض ایمان لانے سے اس کی اصلاح ہو سکتی تو دن ہی ہو جاتی۔اب تو اسے مجاہدہ کی ضرورت ہے اس لئے میں نے تجویز کیا تھا کہ جو لوگ یہ تڑپ اپنے اندر رکھتے ہوں کہ اپنی بھی اصلاح کریں اور جماعت کے دوسرے دوستوں کی بھی، وہ اپنے نام پیش کریں تا وہ میری ہدایات کے ماتحت وقتاً فوقتاً اصلاح کی طرف قدم اُٹھاتے رہیں اور ایسا اعلیٰ نمونہ دکھائیں کہ دشمن بھی بے اختیار کہہ اُٹھے کہ واقعی ان پر ہر رنگ میں اعتبار کیا جاسکتا ہے۔خواہ ان کے پاس روپیہ امانت رکھو، خواہ انہیں ثالث بناؤ یا کسی اور طریق سے ان پر اعتماد کرو۔اس کے متعلق بہت سے دوستوں نے اپنے نام دیئے ہیں جو اخبار الفضل میں چھاپ دیئے گئے ہیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اخبار والوں کو یہ غلطی ہے کہ گویا وہ نام منظور کرلئے گئے ہیں حالانکہ یہ بات نہیں، صرف نام لکھے جارہے ہیں۔میں نے کہا تھا کہ میں اس کیلئے قواعد تجویز کر رہا ہوں لیکن اب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا ہے کہ ابھی اس کو کوئی معین صورت نہیں دینی چاہیئے۔میں ایک سال تک خطبوں کے ا ہے