خطبات محمود (جلد 14) — Page 4
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء رمضان المبارک کا بابرکت آخری عشرہ دُعاؤں کی قبولیت کے ایام (فرموده ۲۰ - جنوری ۱۹۳۳ء) تشر ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- چونکہ کھانسی کی وجہ سے میرا گلا ابھی صاف نہیں ہوا اس لئے میں زیادہ تو بول نہیں سکتا لیکن چونکہ یہ رمضان کا آخری عشرہ ہے اور خصوصیت کے ساتھ برکات کے دن ہیں اس لئے جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ جس حد تک ہوسکے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔اللہ تعالٰی نے ہمارے تمام کاموں کی کامیابی کو دعاؤں پر مبنی کیا ہے اور یہی ایک ایسی چیز ہے جس کے ذریعہ مشکل سے مشکل کام میں کامیابی ہو جاتی ہے۔نادان اپنی نادانی سے بعض ایسی دعاؤں کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ کی مصلحت کے ماتحت قبول نہیں ہوتیں یا بعض ایسی دعاؤں کی وجہ سے جن کی نسبت وہ خیال کرلیتا ہے کہ قبول نہیں ہوئیں، اس غلط فہمی میں مبتلاء ہو جاتا ہے کہ دعا ایک بے فائدہ چیز ہے۔حالانکہ دعا ایسا زبردست آلہ اور زبردست ہتھیار ہے کہ اس کے ذریعہ اگر پہاڑوں کو بھی ہلایا جائے تو وہ ہل جاتے ہیں۔بڑے سے بڑے ہتھیار جو اس زمانہ میں ایجاد ہوئے ہیں جن کو پہلے دنیا نہیں جانتی تھی وہ توپ اور ہم ہیں۔لیکن توپ کے گولہ کا لگنا بھی یقینی نہیں ہوتا اور توپ بھی کچھ میلوں پر جاکر آخر ہو جاتی ہے۔ہوائی جہاز کے بم بھی اکثر خطا جاتے ہیں۔پھر ان سے بچنے کے ذرائع بھی موجود ہیں۔لیکن دعا ایک ایسی چیز ہے جس کے حملہ سے بچاؤ کسی کیلئے ممکن نہیں۔