خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 5

خطبات محمود مخالف سال ۱۹۳۳ء رسول کریم ان کے زمانہ میں یہود کی خفیہ ریشہ دوانیوں کی وجہ سے ایران کے بادشاہ کو جو آج کل کی انگریزی حکومت کی طرح نصف کرۂ عالم پر قابض تھا اور تمام ایشیاء میں اس کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی، اسے رسول کریم ﷺ کے متعلق خیال پیدا ہوا کہ وہ میرے ہیں اور شاید میری سرحد پر فساد کرنا چاہتے ہیں۔اس نے اپنے یمن کے گورنر کے نام خط لکھا کہ میں نے سنا ہے عرب میں ایک ایسا شخص پیدا ہوا ہے جو نبوت کا مدعی ہے، تم فوراً اسے گر فتا کر کے میرے پاس بھیج دو ایرانی حکومت کا جو دبدبہ اور رُعب اُس زمانہ میں تھا اور جس قدر شوکت اسے حاصل تھی، اس کو دیکھتے ہوئے یمن کے گورنر نے گرفتاری کیلئے کوئی فوج بھیجنے کی ضرورت محسوس نہ کی بلکہ صرف تین آدمی بھیج دیئے اور انہیں حکم دیا کہ جاکر اس شخص کو لے آؤ۔ساتھ ہی نصیحت کی کہ شاید عرب کا باشندہ ہونے کی وجہ سے وہ کسری کی شان و شوکت سے ناواقف ہو، اس لئے اسے کہنا کہ وہ بغیر کسی حجت اور قیل وقال کے آجائے۔میں کسری کے پاس اس کی سفارش کروں گا اور کہوں گا کہ اگر اس کا قصور بھی ہے تو معاف کردے۔وہ لوگ رسول کریم اے کے پاس آئے اور آکر اپنا یہ مقصد بیان کیا کہ ہم لئے آئے ہیں کہ تا آپ کو گورنر یمن کے پاس حاضر کیا جائے۔آپ نے فرمایا: میں تیسرے دن اس کا جواب دوں گا۔انہوں نے کہا ہم خیر خواہی سے آپ کو کہتے ہیں کہ کسی نے کسری کے پاس آپ کی جھوٹی شکایت کردی ہے۔اگر آپ گورنر بہن کے پاس حاضر ہو جائیں گے تو وہ آپ کی سفارش کا وعدہ کرتے ہیں۔آپ نے پھر وہی جواب دیا اور فرمایا میں تیسرے دن اس کا جواب دوں گا۔آپ مدینہ میں تھے اور کسری مدائن میں۔مدینہ اور مدائن کے درمیان بیسیوں مضبوط قلعے تھے جن میں دس دس پندرہ پندرہ ہزار فوجی تھے۔مدائن کو فتح کرتے وقت باوجود اس کے کہ اسلامی لشکر سیلاب کی طرح بڑھتا چلا جاتا تھا پھر بھی سالہا سال اور ہزارہا مسلمان ایک ایک لڑائی میں شہید ہوئے۔مگر باوجود اس کے کہ ہزاروں آدمیوں کے مارے جانے کے بعد مدائن فتح ہوا اور باوجود اس کے کہ اس کو فتح کرنے میں سالها سال لگے، آج تک مسلمان اس فتح کو معجزہ قرار دیتے ہیں اور یورپ اس کی توجیہیں کرتا ہے۔پس اگر اس وقت رسول کریم ال کو وہی شوکت حاصل ہوتی جو حضرت عمر کے وقت مسلمانوں کو حاصل تھی۔اور اگر آپ اس گستاخی کے جواب میں کسری پر حملہ بھی کرتے تو بھی مدائن کو فتح کرنے میں کئی سال لگتے۔اور ممکن تھا کہ اس فتح کے بعد کسری کسی اور علاقہ اس لگے۔ا