خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 81

خطبات محمود Al سال ۱۹۴۰۳ء پر یہ ہم نے اپنے بچے کو بچانا ہے۔مگر کتنی مائیں ہیں کہ جب ان کا بچہ بیمار ہو جائے اور اس کی بیماری لمبی ہوتی چلی جائے، سال دو سال چار سال، دس سال پندرہ سال میں سال بلکہ اس سے بھی زیادہ تو پھر بھی وہ استقلال سے تیمارداری میں مصروف رہیں۔یقیناً ایسی بہت کم مائیں ملیں گی۔کوئی دو سال کوئی چار سال کوئی پانچ سال کوئی چھ سال کوئی آٹھ یا دس سال تک جائے گی۔اور سینکڑں میں سے کوئی ایک ماں ہوگی جو ہیں سال تک استقلال کے ساتھ تیمارداری میں مصروف رہے۔اور اگر وہ ہیں سال تک استقلال دکھائے تو بھی گو اس کی زبان الفاظ ہوں گے کہ خدایا! اسے شفا بخش مگر دل میں یہی کہے گی کہ خدایا! کیا تیرے پاس میرے بچہ کیلئے موت نہیں؟ وہ ایک وقت کی موت کیلئے تیار ہو جائے گی مگر ہر وقت کی موت کیلئے تیار نہیں ہو سکتی۔بیشک عام محبت سے ماں کی محبت بہت زیادہ ہوتی ہے۔اور دوسرا شخص جہاں ایک وقت میں گھبرا جاتا ہے۔ماں مہینوں نہیں سالوں استقلال کے ساتھ اس تکلیف کو برداشت کرتی رہتی ہے۔مگر بہر حال کوئی ماں مہینوں اور کوئی سالوں میں تھک جائے گی۔اور بہت کم ایسی مائیں ہوں گی جو آخر تک اس مصیبت کو برداشت کریں۔اس لئے کہ جو موت آہستہ آہستہ آتی ہے، اس کے آنے سے پہلے انسان خوب جانتا اور سمجھتا ہے کہ یہ موت آ رہی ہے۔مگر جو یکدم آجائے اُس وقت عقل قائم نہیں رہتی اور انسان اس مصیبت میں گود پڑتا ہے۔جب ایک ماں اپنے بچہ کو پانی میں گرتے دیکھتی ہے تو اُس کی عقل ماری جاتی ہے۔اور بغیر سوچے سمجھے وہ اس میں کود جاتی ہے۔مگر جب سالہا سال اسے ایک بیمار کی نگہداشت کرنی پڑتی ہے اور وہ دیکھتی ہے کہ بیمار اچھا نہیں ہوتا تو وہ ہر گھڑی اپنی موت اپنے سامنے دیکھتی ہے۔اور عقل و ہوش کی قائمی کی وجہ سے اپنی جان دینے کیلئے تیار نہیں ہوتی۔پس وہ اندر ہی اندر اس غم سے گھلنے لگ جاتی ہے۔وہ سوچتی ہے کہ زندگی میں یہ موت ایسی ہے کہ میں کسی سوسائٹی میں بیٹھ نہیں سکتی، رشتہ داروں سے مل نہیں سکتی، سیر کیلئے نہیں جاسکتی، کسی کام کاج کے قابل نہیں رہی۔پس یہ موت اسے آہستہ آہستہ اپنی طرف آتی دکھائی دیتی ہے۔اور جو چیز آہستہ آہستہ اور ڈراتے ڈراتے پاس آئے اُس کا خوف بہت زیادہ ہوتا ہے۔شیر اگر یکدم سامنے آجائے اور انسان کو پتہ نہ ہو کہ یہ شیر ہے تو ممکن ہے کہ اُسے کئی انسان مار لیں۔مگر جب وہ دو تین میل سے ہاؤ کہہ کر آواز نکالتا ہے تو سننے والا کانپ اُٹھتا ہے۔پھر اور قریب آکر بولتا ہے تو اور زیادہ خوف طاری ہو جاتا ہے۔اور جب -