خطبات محمود (جلد 14) — Page 80
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کر سکتا ہو ، ممکن ہے اسے فریب سے بھی شکست ہو جائے اور ممکن ہے وہ باوجود دعا کے بھی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔مگر سمجھتا یہی ہے۔اُس وقت لالچ اور حرص اس میں پیدا ہوتی ہے۔وہ کہتا ہے میں ایک قدم ہاں صرف ایک قدم گناہ کی طرف اُٹھاتا ہوں، پھر میرے لئے نیکی کے دروازے کھلے ہیں۔مگر وہ نہیں سمجھتا کہ اس ایک قدم کے اٹھانے سے وہ نیکی سے دور چلا جائے گا۔گناہوں کے قریب ہو جائے گا۔اور جب تک کچی توبہ کرکے واپس نہیں آئے گا وہ گناہوں میں بڑھتا چلا جائے گا۔تم ایک قدم شمال کی طرف اُٹھاؤ کبھی جنوب کی طرف دوسرا قدم نہیں اُٹھے گا۔جب تک شمال کی طرف منہ نہ پھیر لو جب تک اس طرف سے رجوع نہ کرلو۔۔پس یہ خیال کہ تھوڑی سی غلطی کے بعد پھر نیکی کے اختیار کرنے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، بہت بڑی غلطی ہے۔ہر غلطی دوسری غلطی کی طرف لے جاتی ہے۔ایک دوسری کی طرف دوسری تیسری کی طرف تیسری چوتھی کی طرف۔پھر موت کی سی توبہ کئے بغیر گناہ آلودہ زندگی سے نجات ممکن نہیں ہوتی۔مگر کون موت تلاش کرتا ہے، بہت کم اور بہت کم گناہوں کی طرف قدم اُٹھانے والے زیادہ ہوتے ہیں مگر موت والی توبہ کرنے والے کم ہوتے ہیں۔اور اگر غلطی کی طرف قدم اٹھا کر خیال کر لیا جائے کہ یہی فتح کا راستہ ہے اور بظاہر فتح حاصل بھی ہو جائے تو یہ ایک دن نیکی کی فتح کی بجائے ظلم اور تعدی کی فتح کہلائے گی۔پس ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہیئے کہ ہمارا مقصد فتح نہیں بلکہ نیکی اور تقوی کی فتح حاصل کرنا ہے۔ہمارا مقصد دین اسلام کے احکام کے مطابق فتح حاصل کرنا ہے اور یہ چیزیں حاصل نہیں ہوتیں جب تک انسان خدا کیلئے موت قبول کرنے کیلئے تیار نہ ہو۔موت اور صرف موت کے ذریعہ یہ فتح حاصل ہو سکتی ہے۔اور جو موت قبول کرنے کیلئے تیار نہیں اسے فتح بھی حاصل نہیں ہو سکتی۔پھر موت بھی ایک وقت کی نہیں بلکہ وہ جو ہر منٹ اور ہر گھڑی آتی ہے۔کتنی مائیں ہیں جو کنویں میں گرتے ہوئے بچے کو دیکھ کر خود کود نہیں پڑیں گی۔میں سمجھتا ہوں بہت کم۔اتی فیصدی بلکہ شائد اس سے بھی زیادہ مائیں ایسی ہوں گی کہ اگر ان کا بچہ پانی میں گر پڑے تو وہ پانی کے کنارے پر کھڑے ہو کر نہیں روئیں گی بلکہ وہ بغیر سوچے سمجھے اس میں گود جائیں گی۔بے شک اگر وہ تیرنا نہیں جانتی تو ڈوب جائیں گی۔مگر کودتے وقت ان کے دل میں خیال نہیں آئے گا کہ ہم غرق ہو جائیں گی۔اُس وقت ایک ہی خیال ان کے دل میں ہوگا کہ