خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 191

خطبات محمود 191 سال ۱۹۳۳ء چھین کر بنی اسرائیل کو کیوں دینا چاہتا۔خدا تعالیٰ تو ایسی قوم کو بادشاہت دینا چاہتا تھا جو اخلاق کی خوشنما حکومت قائم کرتی۔خدا تعالی بنی اسرائیل کو ایک ایسی زندگی نہیں دینا چاہتا تھا جو ختم ہو جاتی۔ایسی زندگی تو چمار بھی دیتا ہے جب وہ بچہ پیدا کرتا ہے۔لیکن خدا انہیں ایسی زندگی دینا چاہتا تھا جو کوئی اور نہیں دے سکتا تھا۔خدا تعالی انہیں اخلاق فاضلہ کی ہمیشہ کی زندگی دینا چاہتا تھا جو فرعون انہیں نہیں دے سکتا تھا۔اور ایسی زندگی بغیر تربیت اور قربانی کی عادت کے انہیں نہیں مل سکتی تھی۔خدا تعالیٰ انہیں ایک تازہ نشان کے ساتھ زندہ کرنا چاہتا تھا۔ان میں سے ہر ایک دس دس کے مقابل کھڑا ہوتا، پھر خدا ان کو فتح دیتا تو وہ ایک زندہ نشان دیکھتے جس سے ان کی اصلاح ہوتی اور اس طرح ان کو حقیقی زندگی ملتی۔گویا پیالے دونوں موت کے تھے لیکن فرعون کے پیالہ میں شربت بھی موت کا تھا اور خدا تعالیٰ کے پیالہ میں زندگی کا۔فرق تھا جسے وہ سمجھ نہ سکے۔اگر وہ فرعون کا پیالہ پی لیتے تو ہمیشہ کیلئے انہیں موت ملتی۔لیکن اگر وہ خدا تعالیٰ کا پیالہ پی لیتے تو وقتی موت ہوتی جس کے بعد انہیں ہمیشہ کیلئے زندگی ملتی۔مگر انہوں نے اس فرق کو نہ سمجھا اور خدا تعالیٰ کا پیش کردہ موت کا پیالہ پینے سے بھی اسی طرح انکار کر دیا جس طرح فرعون کا پیالہ پینے سے انکار کیا تھا۔تب اللہ تعالٰی نے پھر انہیں فرمایا کہ۔فَقَالَ لَهُمُ اللهُ مُؤتُوا ہے۔تم اپنے ہاتھ سے موت لینے سے انکار کرتے ہو، ہم خود تمہیں - موت دیتے ہیں۔تم اس موت کا مقابلہ نہیں کر سکو گے۔لیکن اللہ تعالٰی نے فرعون کی دی ہوئی موت اور اپنی دی ہوئی موت میں فرق رکھا۔وہ لوگ گھر سے تو اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر اعتبار کر کے ہی نکلے تھے۔اللہ تعالیٰ نے کچھ عرصہ کی موت کے بعد انہیں پھر زندگی دے دی۔اور اس طرح اس وعدہ کو پورا کر دیا۔یہ ایک چھوٹی سی آیت ہے لیکن اس میں اللہ تعالیٰ نے قومی جدوجہد کا نقشہ بیان کردیا ہے۔سورۃ بقرۃ میں اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کے چار کام بتاتا ہے۔يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ہے - اول آیات الہی سنانے کا کام، دوسرا تعلیم کتاب کا تیسرا حکمت کا چوتھا تزکیہ نفس کا۔یہ آیت جس کا میں نے ذکر کیا ہے يُعَلِّمُهُمُ الْحِكْمَةَ کے ماتحت ہے۔یہاں قوموں کی ترقی کے ذرائع بیان کئے گئے ہیں۔اللہ تعالٰی نے اس جگہ مثال دے کر بتایا ہے کہ اس طرح قومیں ترقی کر سکتی ہیں۔جب کبھی بھی کسی قوم کو موت کا ڈر ہو، اس کا یہی علاج ہے کہ یا تو وہ اپنے ہاتھ سے موت قبول کرلے یا خدا کے ہاتھ