خطبات محمود (جلد 14) — Page 148
سال ۱۹۳۳ء خطبات محمود ۱۴۸ خلافت کی ذمہ داریوں میں کوتاہی کرنے والا ہوں گا۔مجھے یہ چند منافق کیا اگر دنیا کی حکومتیں بھی مل کر ایک مقصد سے ہٹانا چاہیں تو نہیں ہٹا سکتیں۔اور اگر میں یا کوئی اور خلیفہ اس لئے نرمی کرے کہ لوگ اسے مجبور کرتے ہیں تو یقیناً وہ خدا کا قائم کردہ خلیفہ نہیں ہو سکتا۔رحم ہمارا کام ہے لیکن دباؤ سے ماننا ہمارا کام نہیں، بلکہ دباؤ کو کچلنا ہمارا کام ہے۔یہ لوگ کیا ہیں، شیطان کا ایک آلہ ہیں۔مگر خدا کے خلفاء شیطان پر غالب آیا کرتے ہیں، مغلوب نہیں ہوتے۔اور ایک دن آتا ہے کہ شیطانی ہتھیاروں کو وہ توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔مومن بہادر ہوتا ہے، بزدل نہیں ہوتا۔وہ ایک وقت رحم کرتا ہے، اتنا رحم کہ لوگ خیال کرتے ہیں شاید یہ بزدل ہے مگر جب دباؤ ڈالا جائے، اسے ڈرایا اور دھمکایا جائے تو اُس وقت وہ سخت ہو جاتا ہے۔اتنا سخت کہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ شائد اس سے بڑھ کر سنگدل کوئی نہیں مگر یہ دونوں قسم کے لوگ غلطی پر ہوتے ہیں وہ بزدل نہیں بلکہ رحم دل ہوتا ہے اور سنگدل نہیں بلکہ مستقل مزاج اور اولوالعزم ہوتا ہے۔میں نہیں جانتا، یہ غلطی ہماری جماعت میں کب تک چلی جائے گی اور کہ اور کب تک وہ اِس کا ارتکاب کرتے رہیں گے کہ صیغوں کا نام لے لے کر کہیں کہ امور عامہ ایسا کرتا ہے، فلاں محکمہ ایسا کرتا ہے۔کیا خلیفہ وقت ایسا ہی بیوقوف ہے کہ وہ ایسوں کو ناظر اور افسر مقرر کرے جو ظالم ہوں اور لوگوں پر تندی کرنے والے ہوں۔ناظر امور عامہ جس کا نام لے کر اس معاملہ میں مجھے کو سا جاتا ہے، اُس کی یہ حالت ہے کہ وہ تین دفعہ اس نکاح کے معاملہ میں میرے پاس سفارش کر چکے ہیں اور تینوں دفعہ نہایت سختی سے میں ان کی سفارش کو رد کرچکا ہوں۔اور اب تک بھی میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ آخر یہ نکاح کرنے کرانے والوں کو کس لئے معاف کروں۔تین دفعہ ایک بات کہی جاتی ہے مگر تین دفعہ سننے کے باوجود اس کے خلاف کیا جاتا ہے۔پھر اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم سے منافقت ہو گئی، غلطی ہو گئی ، گناہ ہو گیا بے دینی ہو گئی۔آپ نے تین دفعہ کہا مگر ہم نے نہ مانا۔اب ہم اپنے ں فعل پر پچھتاتے ہیں تو یہ اور بات تھی۔مگر وہ ایک ہی سانس میں یہ کہتے ہیں کہ ہمیں تین دفعہ ایک بات کہی گئی اور ہم نے نہ مانی۔اور اُسی سانس میں یہ کہتے ہیں کہ یہ کوئی غلطی اس نہیں۔رو اگر ان کا اپنے فعل پر پچھتانے والا رویہ ہوتا تو ممکن تھا میں انہیں معاف کر دیتا۔مگر وہ تو ایک ہی سانس میں یہ کہتے ہیں کہ ہمیں تین دفعہ حکم ملا مگر ہم نے نہ مانا۔اور پھر یہ بھی کہہ