خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 149

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء دیتے ہیں کہ ہمیں پتہ نہیں تھا کہ اس طرح نکاح نہیں ہونا چاہیے تھا۔اگر تین دفعہ کہنے کے باوجود بھی ایک بات کسی شخص کی سمجھ میں نہیں آسکتی تو میں نہیں سمجھ سکتا اسے کتنی دفعہ بات سمجھانی چاہیئے۔اس گناہ اور منافقت کی وجہ اصل میں یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں جو ناظر ہے وہ بیوقوف ہے۔میں نے دیکھا ہے قادیان کی لوکل جماعت کے پریذیڈنٹ چونکہ بدلتے رہتے ہیں اس لئے ان کے متعلق یہ بات خوب نظر آتی ہے۔ایک وقت جب ایک شخص پریذیڈنٹ ہوتا ہے تو دوسرا آکر کہتا ہے دیکھئے کیا اندھیر نگری ہے، کوئی سننے والا ہی نہیں، ہر کوئی اپنی حکومت جتاتا ہے لیکن جب دوسرے وقت وہی شخص خود پریذیڈنٹ ہو جاتا ہے تو شکایت کرتا ہے پلک بالکل جاہل اور احمق ہے، وہ تو کام کرنے ہی نہیں دیتی۔گویا جب خود پریذیڈنٹ ہوتا ہے تو پبلک کو احمق قرار دیتا ہے۔اور جب پبلک میں شامل ہو جاتا ہے تو پریذیڈنٹ کو احمق کہنے لگ جاتا ہے۔اسی طرح میں نے پبلک کے بعض افرا کو دیکھا ہے، کہہ دیں گے یہ پریذیڈنٹ نہایت ہی بیوقوف اور جاہل ہے۔پھر جب ان میں سے کوئی پریذیڈنٹ ہو جاتا ہے تو یکدم پبلک باہل بن جاتی اور وہ عظمند ہو جاتے ہیں۔یہ لوگ جو اس وقت معترض ہیں اور کہتے نہیں کہ ناظر نے یوں کر دیا اگر میں انہیں ناظر بنادوں اور دوسرے ہی دن ان سے پوچھوں کہ پبلک کا کیا حال ہے تو وہ کہہ دیں گے جی کیا پوچھتے ہو، جاہل آدمی ہیں قرآن میں بھی لکھا ہے اکثر لوگ جاہل ہوتے ہیں ، یونسی نکتہ چینی کرتے رہتے ہیں۔گویا جب دوسرا شخص ناظر ہوتا ہے اُس وقت تو یہ کہا جاتا ہے کہ پبلک کی آواز ہی اصل چیز ہے اور جب اپنے سپرد کام ہوتا ہے تو اُس وقت پبلک جاہل بن جاتی ہے۔یہ دیانتداری اور تقویٰ کا طریق نہیں۔تقویٰ وہ ہوتا ہے جو ایک اصل کے ماتحت ہو۔چاہے تم حاکم ہو یا محکوم، تمہارا اصل ایک رہے۔لیکن جب تمہارا قانون بدلتا رہتا ہے، تم خود حاکم بنو تو اور قانون ہو جاتا ہے محکوم بنو تو اور تو پھر تم مومن نہیں بلکہ منافق ہو خواہ تم جانتے ہو یا نہ - اللہ تعالٰی نے کچھ اصول مقرر فرمائے ہیں اور وہی ہر جگہ کام آیا کرتے ہیں چاہے کوئی حاکم ہو یا محکوم۔پس اگر اپنی اصلاح چاہتے ہو تو ان جاہل لوگوں کی طرح مت بنو جن کا آج کل یہ کام ہے کہ گورنمنٹ انگریزی جسے بھی افسر مقرر کرے، اس کے خلاف شورش برپا کر دیتے ہیں، جب تک یہ بات تمہارے اندر پیدا نہیں ہوگی اور تم اپنے افسروں کی اطاعت نہیں کروگے، اُس وقت تک تمہارا ترقی کرنا بالکل محال ہے۔تمہاری مثال اُس وقت اُس چیتے کی سی ہوگی جو اپنی زبان کا خون چوستا