خطبات محمود (جلد 14) — Page 7
خطبات محمود سال ۱۹۹۳ اب کجا مدینہ اور کجا مدائن، سینکڑوں میلوں کا فاصلہ ہے۔درمیان میں بیسیوں ایسی چھاؤنیاں ہیں جو فوجوں سے پُر ہیں اور جن کا مقابلہ متمدن حکومتوں سے بھی نہیں ہو سکتا تھا۔چنانچہ قیصر کی حکومت بھی اپنی شوکت کے باوجود مدائن کو فتح کرنے سے قاصر رہی۔اگر رسول کریم ان کے پاس تو پیں بھی ہوتیں تو کہاں تک مار کرتیں۔مگر دعا تھی جو آسمان پر گئی اور وہاں سے مدائن پر بم گرا جس نے کسری کو ہلاک کر دیا۔ہوائی جہازوں کے بم اِدھر اُدھر گر سکتے ہیں مگر دعا کا ہم کبھی خطا نہیں کرتا اور ہمیشہ نشانہ پر بیٹھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی یہی حال تھا۔دشمنوں نے آپ کو گرفتار کرنا چاہا مگر خدا نے ہمیشہ آپ کو محفوظ رکھا۔ایک انگریز نما پادری تھا، اُس نے ایک شخص کو سکھلا دیا کہ وہ کے حضرت مرزا صاحب نے اس کے قتل کیلئے اسے بھیجا ہے۔وہ زمانہ آج سے ۳۵ سال پہلے کا تھا جبکہ ہر انگریز دنیا میں خدا کا بروز سمجھا جاتا تھا اور جبکہ بڑے سے بڑا نواب بھی اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا اور کانپتا تھا۔اُس وقت ایک پادری شکایت کرتا ہے کہ مرزا صاحب نے ایک شخص کو میرے قتل کیلئے بھیجا ہے۔ڈپٹی کمشنر بغیر تحقیقات کے آپ کے نام وارنٹ جاری کر دیتا ہے۔مخالف خوش ہوتے ہیں کہ ابھی مرزا صاحب ہتھکڑی پہنے عدالت میں حاضر کئے جائیں گے۔مگر ادھر ڈپٹی کمشنر نے وارنٹ جاری کیا، اُدھر بغیر کسی قسم کی زمینی اطلاع کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی طرف سے ایک خطرہ ہے مگر وہ یونسی اُڑ جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس الہام کو اپنی جماعت میں بیان کر دیتے ہیں۔اُدھر عیسائی آریہ اور غیر احمدی مولوی تمام اکٹھے ہو جاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گرفتار کرائیں۔چونکہ لیکھرام کا واقعہ ابھی تازہ تھا اس لئے پنڈت رام بهجدت مشهور آریہ وکیل اپنی خدمات عیسائیوں کیلئے مفت پیش کرتا ہے۔اور کہتا ہے کہ وہ نہ صرف لاہور کیلئے اپنی خدمات پیش کرتا ہے بلکہ بٹالہ آنے کیلئے بھی ہر وقت تیار ہے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی عیسائیوں کی امداد کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ میں عدالت میں مرزا صاحب کے خلاف گواہی دوں گا کہ یہ شخص واقعہ میں ایسا ہی مجرم ہے۔غرض سارے کے سارے دشمن مل کر عدالت میں اِس امید کے ساتھ جاتے ہیں کہ وارنٹ گیا ہوا ہے، ابھی مرزا صاحب کو ہتھکڑی لگائے عدالت میں حاضر کیا جائے گا۔لیکن