خطبات محمود (جلد 14) — Page 6
خطبات محمود سال ۱۹۳۴۳ء میں بھاگ جاتا یا کہیں چھپ جاتا اور اس طرح مسلمانوں کے حملہ سے محفوظ رہتا۔غرض انسانی تدابیر کے ساتھ اگر یہ بات ممکن بھی ہوتی، تب بھی اس کیلئے سالوں چاہئیں تھے۔مگر رسول کریم ﷺ نے اللہ تعالٰی سے دعا کی اور جب تیسرے دن وہ لوگ جواب کیلئے حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا تم جاؤ۔اُس زمانہ میں کسری کی رعایا اُسے خداوند کہہ کر یاد کیا کرتی تھی۔گویا وہ ان کا مجازی خدا تھا۔اور ہمیشہ بات کرتے وقت وہ کسریٰ کو خداوند کہتے اور کہا کرتے تھے کہ ہمارا خداوند یوں کہتا ہے۔آپ نے بھی اسی تلازمہ ان کو مد نظر رکھتے ہوئے فرمایا۔جاؤ! میرے خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ آج کی رات اس نے تمہارے خداوند کو مارڈالا ہے۔وہ لوگ یہ الفاظ سن کر کانپ اُٹھے اور کہنے لگے شاید یہ دیوانہ ہو گیا ہے جو کسریٰ کی طاقت سے اس قدر ناواقف ہے۔انہوں نے کہا۔آپ اپنے آپ پر اور اپنے ملک پر رحم کریں کسری کی فوجیں عرب کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گی۔آپ نے فرمایا- میں نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا۔میرا وہی جواب ہے، جاکر گورنر سے کہہ دو۔وہ لوگ واپس چلے آئے۔اور انہوں نے گورنر سے کہا کہ یا تو وہ شخص دیوانہ ہے اور یا خدا کانبی۔گورنر کہنے لگا ہم انتظار کریں گے۔اگر اس کی یہ بات کچی نکلی تو وہ واقعہ میں خدا کا نبی ہوگا اور ہم اُس کی اطاعت میں جلدی کریں گے۔غرض اُس نے انتظار کیا، یہاں تک کہ ایران کے جہاز وہاں پہنچے اور ایران کے بادشاہ کا خط گورنر یمن کے نام آیا۔اُس زمانہ میں جیسا کہ دستور تھا گورنر چند قدم بڑھ کر آگے آیا۔اس نے ایچی سے خط لیتے ہوئے اسے بوسہ دیا، سینہ سے لگایا اور پھر اسے کھولا۔مگر جب اس نے خط اپنے ہاتھ میں لیا تو معا اُس کا رنگ متغیر ہو گیا۔کیونکہ اس پر اس بادشاہ کی مہر نہیں تھی جو اُس وقت حکمران تھا جبکہ وہ گورنر بنایا گیا تھا بلکہ اس کے بیٹے کی مہر تھی۔اس نے خط کھولا تو اس میں لکھا تھا، ہم نے اپنے باپ کے ظلموں کو دیکھ کر اور یہ محسوس کر کے کہ رعایا اس سے سخت تنگ ہے، اسے فلاں دن قتل کر دیا ہے اور اب ہم تخت حکومت کے وارث ہیں۔گورنریمین نے جب حساب لگایا تو اسے معلوم ہوا کہ جس رات کسری قتل ہوا، وہ وہی رات تھی جب رسول کریم ! نے بتلایا تھا کہ آج رات میرے خدا نے تمہارے خداوند کو مارڈالا ہے۔پھر آگے لکھا تھا۔ہمارے باپ نے عرب کے ایک مدعی نبوت کے متعلق بھی ایک ظالمانہ حکم جاری کیا تھا۔ہم اسے بھی منسوخ کرتے ہیں، اس بارے میں قطعا کوئی کارروائی نہ کی جائے ہے۔- ا