خطبات محمود (جلد 14) — Page 82
خطبات محمود AF سال ۱۹۳۳ء بالکل قریب آجاتا ہے تو انسان کے ہاتھ پاؤں میں سکت نہیں رہتی۔اس کی وجہ کیا ہے یہی کہ وہ آہستہ آہستہ ڈراتا ہوا آتا ہے۔اگر وہ یکدم آدمی کے پاس پہنچ جائے تو کئی انسان اسے مار لیں۔میں نے ایک دفعہ اخبار میں ایک عورت کے متعلق پڑھا تھا کہ وہ اپنے کھیت میں تھی۔وہیں زچگی ہوئی اور اسے بچہ پیدا ہو گیا۔واپس آرہی تھی کہ راستہ میں اسے چیتا مل گیا وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ چیتا ہے۔اُس نے بچہ زمین پر رکھا۔اور چیتے سے لڑنے لگ گئی۔یہاں تک کہ اس کا گلا گھونٹ کر اسے مارڈالا۔تو وہ لوگ جو آہستہ آہستہ خطرہ کو برداشت کریں کم ہوتے ہیں۔ہاں یکدم خطرہ میں کود جانے والے بہت ہوتے ہیں۔آج کل ہی کانگرس کی وجہ سے جو فسادات ہوتے ہیں، ان میں جب گولی چلائی جاتی ہے تو سینکڑوں آدمی کھڑے رہتے ہیں۔اور کہتے ہیں ہمیں کچھ پرواہ نہیں، مار ڈالو۔مگر جب جلسہ ہو رہا ہو اور پولیس اس کے متعلق کیے کہ منتشر ہو جاؤ ورنہ لاٹھی چارج کیا جائے گا تو ایک بھی آدمی جلسہ گاہ میں نہیں ٹھہرتا۔اس لئے کہ گولی چلنے اور عقل آنے کے درمیان کوئی وقفہ نہیں ہوتا۔مگر لاٹھی چارج کرنے اور عقل سے کام لینے میں وقفہ ہوتا ہے۔اور انسان عواقب کو سوچ لیتا ہے۔گزشتہ ایام کے واقعات دیکھ لو۔جہاں گولیاں چلیں وہاں یہ نظر آئے گا کہ لوگوں نے بڑی جرات اور بہادری دکھائی۔مگر جہاں ڈنڈے چلے، وہاں انہوں نے بزدلی دکھائی۔اس کے یہ معنے نہیں کہ ڈنڈا گولی سے زیادہ خطرناک چیز ہے۔بلکہ یہ ہے کہ گولی چلنے اور عقل سے کام لینے میں کوئی وقفہ نہ تھا۔اس لئے لوگوں نے اپنے سینے آگے کر دیئے۔مگر ڈنڈا چلنے سے پہلے وقت ہوتا ہے۔اور لوگ اپنے انجام کو سوچ لیتے ہیں، اس لئے بھاگ گئے۔غرض جو موت آہستہ آہستہ آتی ہے وہی اصل موت ہوتی ہے اور اسے برداشت کرنا انسان کو دلیر اور جری ثابت کرتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں صحابہ " میں اس موت کو برداشت کرنے کی قوت تھی۔چند صحابہ " ایک دفعہ پکڑے گئے۔اور ایک صحابی سے کو ایسے کافر نے خرید لیا جس کے ایک رشتہ دار کو اس صحابی کے کسی مسلمان رشتہ دار نے قتل کیا تھا۔اور اس غرض سے خرید لیا تاکہ اپنے رشتہ دار کا بدلہ لینے کیلئے قتل کرے۔کئی دن تک اپنے گھر میں اس صحابی کو قید رکھا۔اور روزانہ قتل کی تیاریاں کی جاتیں۔وہ صحابی اپنی آنکھ سے سب کچھ دیکھتے اور انہیں معلوم ہو تا رہتا تھا کہ اب موت میں کتنا وقت باقی رہ گیا ہے۔آخر جب اُن کے قتل کئے جانے کا وقت قریب آگیا تو انہوں نے کہا مجھے اُسترا دیں تاکہ میں اپنے جسم کی صفائی کرلوں۔انہیں اُسترا دیا گیا۔وہ اُسترا