خطبات محمود (جلد 14) — Page 79
خطبات محمود 49 سال ۱۹۳۳ء ہے کہ وہ حقیقی فتح تلاش کرے۔وہ فتح جو ناجائز ذرائع سے حاصل ہو، وہ فتح جس کے حاصل۔کرنے کیلئے ایسی تدابیر اختیار کرنی پڑتی ہوں جو انسانیت اور شرافت کے خلاف ہوں، وہ مومن کیلئے فتح نہیں شکست ہے۔دشمن کا ماردینا کتنی کامیابی کی بات سمجھا جاتا ہے مگر رسول کریم کے زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ جنگ کے میدان میں جنگ میں شامل ہونے والی ایک عورت کی لاش ملتی ہے۔جنگ بھی ایسی جس کی فتح پر اسلام کی فتوحات کا انحصار تھا۔اور دشمن بھی ایسا جس نے اپنی ساری عمر اسلام کے مٹانے کیلئے خرچ کردی تھی۔ایسا دشمن مارا جاتا ہے۔ایسی لڑائی فتح ہوتی ہے۔لیکن ایک عورت کی لاش دیکھ کر محمد ﷺ کی ساری خوشی غم میں بدل جاتی ہے۔آپ کے چہرہ پر ایک رنگ آتا اور ایک جانا۔صحابہ کہتے ہیں ہم نے کبھی رسول کریم ﷺ کو اتنا غضب میں نہیں دیکھا جتنا اُس روز اے۔اس میں رسول کریم ای کا کوئی دخل نہ تھا۔اسلامی تشکر کا کوئی دخل نہ تھا۔ایک ایسے موقع پر جبکہ اپنے پرائے میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور بسا اوقات ایک اپنا اپنے ہاتھ سے قتل ہو جاتا ہے، اتفاقاً حادثہ کے طور پر وہ عورت ماری جاتی ہے۔لیکن چونکہ اس سے اسلامی فتح مشتبہ ہو جاتی اور دشمن کو انگشت نمائی کا موقع ملتا تھا۔وہ کہہ سکتے تھے محمد الله ) کے متبعین نے عورت کو قتل کر دیا۔اس لئے رسول کریم ﷺ کو یہ حملہ بہت ہی سخت نظر آیا اور آپ کی ساری خوشی غم بدل گئی۔جو دراصل سبق ہے اس بات کا کہ آپ کے نزدیک فتح کوئی چیز نہ تھی، بلکہ نیک اور جائز ذرائع سے حاصل کردہ فتح کی قیمت آپ کے دل میں تھی۔ایک اور موقع پر کچھ صحابہ " بعض لوگوں پر حملہ کر کے ان کا مال لے آئے۔جس وقت حملہ کیا گیا حج کے ایام آچکے تھے اور اُن دنوں لڑائی جائز نہ تھی۔اس موقع پر بھی رسول کریم کا چہرہ غمگین ہو گیا۔اور آپ نے فرمایا تم نے یہ کیا کیا۔پھر جو مارے گئے ان کا خون بہا دیا گیا ہے۔اس لئے نہیں کہ عام جنگی قوانین کے لحاظ سے یہ کوئی بُری بات تھی۔ہمیشہ لوگ ایسا کرتے اور خود عرب کے لوگ کرتے، بلکہ محض اس لئے کہ رسول کریم کا نقطہ نگاہ دوسروں سے بالا تھا۔پس یاد رکھو ہماری جماعت کا مقصد فتح حاصل کرنا نہیں، بلکہ اخلاق کے ذریعہ فتح حاصل کرنا ہے۔بسا اوقات انسان کو یہ نظر آتا ہے کہ فتح میرے ہاتھ میں ہے۔اور بسا اوقات وہ خیال کرتا ہے کہ تھوڑے سے مکر سے تھوڑے سے فریب سے تھوڑے سے دعا سے اور تھوڑے سے جھوٹ سے وہ اسے حاصل کر سکتا ہے۔ممکن ہے وہ نہ دین اور