خطبات محمود (جلد 14) — Page 76
خطبات محمود <4 سال ۱۹۳۳ء کے ساتھ کہ وہ دعاؤں کو سنتا ہے۔خواہ کوئی ظاہری نتیجہ نکلے یا نہ نکلے۔کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بعض اوقات وہ کسی بڑی بلا کو ٹال دیتا ہے جس کا انسان کو علم نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ صدقات علانیہ اور خفیہ دونوں طرح کیا کرو اور خود بھی اسی طرح کرتا ہے۔کبھی تو دعا کے نتیجہ میں صاف طور پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ انسان کے ساتھ دکھائی دیتا ہے اور بعض اوقات وہ اس کی حاجت روائی کے ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ اسے خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی دعا قبول ہو گئی۔ایک دفعہ ایک صحابی رات کے وقت صدقہ کرنے کیلئے نکلے تو اندھیرے میں ایک چور کے ہاتھ میں دے دیا۔رسول کریم ﷺ کو معلوم ہوا تو فرمایا ٹھیک ہے۔تو اللہ تعالٰی نے نصیحت کی ہے کہ صدقات سِرًّا وَّ عَلَانِيَةً کیا کرو۔کبھی تو اس طرح کہ کسی کو پتہ بھی نہ لگے اور کبھی اس طرح کہ دوسرے دیکھیں۔اور ان کو بھی نیکی کی تحریک ہو۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کبھی تو دعاؤں کے ظاہری نتائج بھی ظاہر کر دیتا ہے اور کبھی دوسروں کے دلوں میں تحریک کے ذریعہ اسے قبول کرلیتا ہے۔کبھی تو ایسے رنگ میں قبول کرتا ہے کہ صاف نظر آتا ہے اس کا ہاتھ اس میں کام کر رہا ہے اور کبھی پوشیدہ طریق پر کہ ایسا معلوم یا معلوم ہوتا۔ہے دعا قبول نہیں ہوئی اور کسی اور ذریعہ سے کام ہوا ہے۔لیکن مومن جانتا ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔وہ سارا دن محنت کر کے روٹی کماتا ہے مگر پھر بھی یہی کہتا ہے کہ اللہ تعالی نے دی ہے۔وہ آگ میں پڑ کر اسے پکاتا ہے اور پھر بھی یہی کہتا ہے کہ خدا نے کھلائی۔پس دعائیں کرو اور کامل توکل اور یقین کے ساتھ کرو۔اور یاد رکھو کہ خداتعالی اپنی جماعت کو ضائع نہیں کیا کرتا۔مصیبتیں بیشک آرہی ہیں اور یہ کیا ہیں، ابھی ایسی ایسی آئیں گی کہ جو ذہن میں بھی نہیں آسکتیں۔مگر یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ انہیں دور کردے گا اور اپنی ستاری کی صفت کے ماتحت ہماری کمزوریوں سے بھی درگزر فرمائے گا۔اُس کا نام جو ستار ہے تو یہ مومن کیلئے ہی ہے۔پھر اپنی غفاری کی صفت کے ماتحت ہمارے لئے ان مصائب کے نتائج بھی بہتر کر دے گا اور اپنا رحم شامل حال کر کے بجائے نیچے گرنے کے ہمیں اوپر اُٹھادے گا۔پس یہ مصائب کچھ حقیقت نہیں رکھتے۔اور مومن کیلئے کوئی مصیبت نہیں سوائے اس کے کہ اس کے دل میں دعا کی توفیق اور درد پیدا نہ ہو۔اگر یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔چونکہ بارش اور کیچڑ ہے اس لئے جمعہ کی نماز کے بعد میں عصر کی نماز بھی پڑھا دوں گا تا دوبارہ آنے کی تکلیف نہ ہو۔الفضل ۳۰ مارچ ۱۹۳۳ء)