خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 63

خطبات محمود ۶۳ سال ۱۹۳۳ء سچائی کو پھیلانا ہے۔۔۔پس ہمارا کام ہے کہ سچائی کیلئے کھڑے ہو جائیں اور اگر سچائی کیلئے ہمیں قربانیاں بھی کرنی پڑیں تو ان سے دریغ نہ کریں۔کیا چیز ہے جو دشمن ہم سے لے سکتا ہے۔وہ ہم سے مال لے لے گا لیکن اگر ہم نے سچے دل سے یہ عہد کیا ہوا ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے تو یہ مال کیا چیز ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی ایک دین ہے جب تک وہ ہمارے پاس رکھتا ہے، ہم اس کا شکریہ ادا کریں گے۔اور جب خدا کہے گا کہ اب مال چھوڑ دو تو ہم چھوڑ دیں گے۔پھر اور کیا چیز دشمن ہم سے لے سکتا ہے۔وہ زیادہ سے زیادہ ہمیں قتل کر سکتا ہے لیکن اس سے بڑھ کر اور کیا خوش قسمتی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ہم شہید ہو جائیں اور ابدی زندگی پائیں۔یہی وجہ ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی تائید میں مارا جاتا ہے اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ زندہ ہے، مُردہ نہیں کیونکہ بظاہر یہ خیال آتا ہے کہ ایک انسان جو ہیں سال کی عمر میں مارا گیا اگر وہ چالیس سال اور زندہ رہتا اور اسے نیکیوں کا موقع ملتا تو وہ بہت بڑا روحانی درجہ حاصل کرلیتا۔اور جو مقام اُسے ہیں سال کی عمر میں حاصل تھا اُس سے بہت بلند مقام کا وارث ہو کر دنیا سے اُٹھتا۔اس وسوسہ کو دُور کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص شہید ہو گیا اور اللہ تعالیٰ کے راستہ میں مارا گیا، اُس کی نیکیاں جاری رہتی ہیں اور ہمیشہ اس کا درجہ بلند ہوتا رہتا ہے۔پس وہ ہمیشہ زندہ رہے گا اسے مُردہ کہنا ہی غلط ہے۔غرض اگر ہماری جان بھی دشمن لے لیتا ہے تو یہ کون سی بڑی بات ہے۔بلکہ یہ تو خوشی کی بات ہے کہ ہمارا مولیٰ جو دُور تھا موت کے بعد ہمارے قریب ہو گیا۔یا اگر ہمارے عزیز اور رشتہ دار دین کے راستہ میں مارے جاتے ہیں تو یہ سب چیزیں بھی خدا ہی کی ہیں، ہمارا ان پر کیا حق ہے۔دیکھ لو رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بچے بھی دیئے۔اور پھر اس نے اُٹھا بھی لئے۔ایک دفعہ آپ قبرستان کے قریب سے گزر رہے تھے کہ ایک بڑھیا اپنے بچے کی قبر پر رو رہی تھی۔آپ نے فرمایا اے عورت! صبر کر۔وہ کہنے لگی اگر تیرا بچہ مرتا تو تجھے پتہ لگتا کہ کتنا درد ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا اے بی بی! میرے گیارہ بچے مرچکے ہیں۔اتنا کہہ کر آپ وہاں سے چلے آئے۔بعد میں کسی نے اسے بتایا کہ بدبخت یہ تو رسول اللہ ا تھے۔وہ یہ سنتے ہی دوڑتی ہوئی آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ! میں نے صبر کیا۔آپ نے فرمایا صبر تو وہ ہے جو شروع میں کیا جائے ورنہ رودھو۔