خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 62

خطبات محمود ур سال ۱۹۳۳ء ہے۔پس ہے۔اس لئے کہ اگر بعض دفعہ اتفاق ہو سکتا ہے تو بعض دفعہ اختلاف بھی ہو سکتا گورنمنٹ کی مدد یا پبلک کی توجہ پر انحصار رکھنا شرک ہے۔تمہارا تو گل محض اللہ تعالی کی ذات پر ہونا چاہیئے۔اگر یہ نہ ہو تو ہم کس منہ سے کہہ سکتے ہیں۔إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ له - اس کا تو یہ مطلب ہے کہ اے خدا! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔مگر واقعہ یہ ہوگا کہ ہم خدا کی بجائے گورنمنٹ اور پبلک کی مدد کے خواہشمند ہوں گے۔اور یہ شرک ہے۔ہمیں اپنے عمل سے ثابت کرنا چاہیے کہ ہم سب کے خیر خواہ ہیں۔لیکن ہماری خیر خواہی کے باوجود اگر وہ مخالفت پر اُترتے ہیں تو ہمیں اس کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم خیر خواہی کریں اور اس خیر خواہی کا تقاضا ہے کہ جہاں کوئی معیوب بات دیکھیں، اس کے خلاف آواز بلند کریں اور یہی معقول پسند انسان کا طریق ہوا کرتا ہے۔پس ہم خدا کو چھوڑ کر نہ کسی کے دوست ہوئے نہ ہیں اور نہ ہو سکتے ہیں۔ہم اصول پابند ہیں اور سچائی کے حامی مسلمان بعض دفعہ اعتراض کردیا کرتے ہیں کہ تم تو ہمارے مفادِ مشترکہ میں ہمارے ساتھ ہو پھر فلاں بات میں کیوں اختلاف کرتے ہو۔ہم کہہ دیتے ہیں کہ ٹھیک ہے مگر ہماری خیر خواہی کا تقاضا یہی ہے کہ اس امر میں خلاف ہوں۔یا مثلاً کشمیر کی ایک ہی جب شروع ہوئی تو گورنمنٹ نے کہہ دیا کہ لوجی ہم تو احمدیوں کو بڑا اچھا سمجھتے تھے مگر یہ تو ایسے نکلے۔ہم نے ان کی باتوں کی کبھی پرواہ نہیں کی۔کیونکہ مومن کا کام ہے کہ وہ سچائی کا حامی ہو یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی کا ایک نام حق بھی ہے۔اور اسی بناء پر لوگ اپنے بچوں کا نام عبد الحق رکھ لیا کرتے ہیں۔پس گورنمنٹ ہو یا پبلک اپنے ہوں یا پرائے، ہم سب معاملہ کرنے میں ہمیشہ سچائی کے پابند رہتے ہیں۔کشمیر کے معاملہ میں ہی ایک جگہ کشمیر کے علاقہ میں ہندوؤں پر مسلمانوں نے زیادتی کی، ہم نے اس موقع پر ہندوؤں کی تائید کی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں سارے مسلمان ہمارے مخالف ہو گئے اور ایک گاؤں کے احمدی تین ماہ تک جنگلوں میں بھاگے پھرے۔جب وہ شکایت لے کر آئے تو میں نے کہا کہ ہم کشمیریوں کا اس لئے ساتھ دیتے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ مظلوم ہیں اور ان کی اعانت کرنا مسلمانوں پر فرض ہے۔پس ان کی مظلومیت کی وجہ سے ہم ان کے ساتھ ہیں لیکن اگر وہ جھوٹی گواہی دلوانا چاہتے ہیں تو تم ہرگز نہ دو۔اور جو کچی بات ہے وہ بیان کردو کیونکہ ہمارا کام