خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 51

خطبات محمود ۵۱ ^ سال ۱۹۳۳ء ابتلاؤں کا سلسلہ ایمان کو تازہ رکھنے کیلئے نہایت ضروری ہے فرموده ۱۷ مارچ ۱۹۳۳ء بمقام مسجد احمد یہ لاہور) - تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں نے آج کا قیام لاہور میں محض اس غرض کیلئے کیا ہے کہ تا میں جمعہ کا خطبہ یہاں پڑھ سکوں۔کیونکہ کئی دنوں سے میرے دل میں یہ خیال تھا کہ میں لاہور کے دوستوں کو بعض ایسے امور کے متعلق جو ان دنوں ان کے سامنے ہیں بعض نصائح کروں۔اور اس کی بہتر صورت مجھے یہی نظر آئی کہ میں ایک جمعہ لاہور میں پڑھاؤں اور اس طرح اپنے خیالات سے دوستوں کو آگاہ کردوں۔چند دنوں سے ہماری جماعت کی مخالفت دوسرے لوگوں میں بڑھ رہی ہے۔اور وہ معاندت کی رو جو پچھلے چند سالوں سے دبی ہوئی تھی پھر نئے سرے سے طاقت پکڑ کر ایک نئے رنگ میں دنیا میں عموماً اور ہندوستان میں خصوصاً ظاہر ہونے لگی ہے۔یہ ایک طبعی امر ہے کہ جب ایک انسان کے خلاف کوئی جدوجہد شروع کی جاتی ہے تو وہ اسے مبرا مناتا ہے۔اور میں سمجھتا ہوں اس طبعی احساس سے ہماری جماعت بھی آزاد نہیں ہو سکتی۔یہ قدرتی بات ہے کہ اس مخالفت کی رو کو دیکھ کر جو ہمارے خلاف جاری ہے، اس معاندانہ پروپیگنڈا کو دیکھ کر جو ہمارے خلاف کیا جارہا ہے اور اُن گالیوں کو سن کر جو ہمیں یا ہمارے بزرگوں کو دی جاتی ہیں، ہمارے دوستوں کے دلوں میں وہ حیوانیت جو انسان کے ساتھ ایک خاصہ لازمہ کے طور پر لگی ہوئی ہے کچھ نہ کچھ جوش دکھائے اور ان کی طبیعت بھی گو اینٹ کا جواب پتھر سے۔