خطبات محمود (جلد 14) — Page 52
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء f دینے کی طرف مائل نہ ہو مگر اینٹ کا جواب روڑے سے دینے کی طرف مائل ہو جائے۔پس میں نے سمجھا میرا فرض ہے کہ اس وقت لاہور جو مخالفت کا مرکز بن گیا ہے، یہاں کی جماعت کو اپنے خیالات سے آگاہ کردوں تا کہ وہ لوگ جو میرے ہاتھ پر بیعت کرنے کی وجہ سے مجھے معلم کا درجہ دے چکے ہیں، اپنے آئندہ طریق عمل کو میری ہدایات کے مطابق ڈھالیں۔در حقیقت جماعت کی غرض یہ ہوا کرتی ہے کہ افراد اپنے اپنے طور پر کام نہ کریں بلکہ اجتماعی کام ایک فیصلہ کے ماتحت کیا جائے۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِم نے یعنی امام ایک ڈھال کے طور پر ہوتا ہے اور جماعت کو اس کے پیچھے ہو کر لڑنا چاہیئے۔وہ انسان ہرگز عظمند نہیں کہلائے گا جو دشمن پر حملہ تو کر دے لیکن ڈھال کو اپنے پیچھے کرلے۔ایسے شخص کو ڈھال کا بوجھ اُٹھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔کیونکہ ڈھال کا منشاء یہ ہوتا ہے وتا ہے کہ اس کے ذریعہ حملہ آور کے حملہ کو روکا جائے۔اور اگر یہ غرض پوری نہ ہو تو نہ صرف یہ کہ ڈھال کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ وہ ایک زائد بوجھ ہو گا جو سپاہی کی مستی کو کم کردے گا۔جنگ کا اصول یہی ہے کہ جتنا ہلکا پھلکا سپاہی ہو ، اتنی ہی زیادہ عمدگی کے ساتھ وہ جنگ کر سکے گا۔اور اگر وہ ڈھال سے فائدہ نہیں اُٹھاتا تو اُس کی ڈھال ایک زائد بوجھ شمار کی جائے گی۔بعینہ اسی طرح امام بھی ایک بوجھ ہوتا ہے کیونکہ ہر انسان فطرتی آزادی محسوس کرتا ہے جسے وہ امام کی اتباع کے ذریعہ قربان کر دیتا ہے۔پہلے وہ ہر کام اپنی مرضی سے کر لیا کرتا تھا مگر آب اُسے بہت سے کاموں میں امام سے مشورہ لینا پڑتا ہے یا بہت سے کاموں میں اسے امام کے فیصلہ کی تعمیل کرنی پڑتی ہے۔پس یہ زائد بوجھ اگر ہمارے لئے مفید نہ ہو تو یقیناً نقصان دہ ہوگا۔اور اگر ہم اس سے وہی فائدہ حاصل نہیں کرتے جو اس کا مقصد مقرر کیا گیا ہے تو اس بوجھ کے اُٹھانے کا دعویٰ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔جس طرح ڈھال کے متعلق کوئی شخص یہ پسند نہیں کرے گا کہ اسے اپنے پیچھے کرلے اور ایسا کرنے والے کو ہر انسان بیوقوف سمجھے گا۔اسی طرح رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں الْاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ یعنی اگر تم کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہو تو تمہارا فرض ہے کہ تم اس کو آگے رکھو اور آپ پیچھے رہو۔لیکن اگر تم خود آگے رہتے ہو اور اُسے پیچھے کرتے ہو، تو تم اُس بیوقوف کی طرح ہو جو ڈھال کو اپنے پیچھے کرتا اور پھر دشمن پر حملہ آور ہوتا ہے۔آج کل بجائے ڈھالوں کے خندقوں کے ذریعہ جنگ کی جاتی ہے۔جن کو انگریزی میں