خطبات محمود (جلد 14) — Page 38
خطبات محمود ۳۸ سال ۱۹۳۳ء انکار ہے کہ وہ دیکھے اور کان کا کام ہے کہ وہ سُنے۔جو آنکھ دیکھنے سے اور جو کان سننے کر دے گا یا جو ناک سونگھنے سے انکار کرے گی، وہ ضائع ہو جائے گی۔کیونکہ جس غرض کیلئے اور انسان کوئی چیز پیدا کی گئی ہو اگر وہ اسے پورا نہ کرے تو اسے رکھا نہیں جاتا۔پس شدائد کو برداشت کرتے ہوئے صبر سے کام لو۔اور دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء کیا ہے۔اس وقت خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہارے صبر کی آزمائش کرے۔محمد ﷺ کے صحابہ اگر مکہ میں صبر سے کام نہ لیتے تو وہ اللہ تعالی کی درگاہ سے راندے جاتے۔اور اگر محمد ال کے صحابہ مدینہ میں تلوار نہ اٹھاتے تو بھی خدا کی درگاہ سے راندے جاتے۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کی منشاء کو سمجھا ا کامیاب ہوئے۔تم بھی اللہ تعالیٰ کا منشاء دیکھو۔تمہاری تلوار تمہاری بندوق، تمہاری توپ اور تمہارا ہتھیار اس وقت صرف تبلیغ ہے۔تلواریں اور تو ہیں لوگ خود بناتے ہیں مگر جو چیز تم کو دی گئی ہے، وہ خدا نے اپنے ہاتھ سے تمہارے لئے بنائی ہے۔اور کون کہہ سکتا ہے کی بنائی ہوئی خدا کی بنائی ہوئی تلوار ایک سی ہوتی ہے۔پس بزدل مت بنو غیور بنو۔مگر جو خدا نے تمہارے لئے شاہراہ مقرر کی ہے، اس کے مطابق کام کرو۔تم نکل جاؤ اُس کلام کو لے کر جو خدا کی طرف سے نازل ہوا۔تم نکل جاؤ اس تعلیم کو لے کر جو مسیح موعود کی معرفت تمہیں ملی۔دشمن ٹھٹھا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ ایک مجنون آدمی تھا۔مگر تم جانتے ہو کہ دنیا کے تمام نور اس کے کلام سے نکل کر پھیل رہے ہیں۔جانتے ہو کہ خدا نے انہیں مردود قرار دے دیا جو اُس کے دامن سے وابستہ نہیں۔تم جانتے ہو کہ اس کی تعلیم دلوں میں تقویت دینے والی اور خدا سے ملا دینے والی ہے۔تم جانتے ہو کہ وہ خدا کا عشق پیدا کرنے والی ہے۔تم جانتے ہو کہ وہ محمد ا سے محبت پیدا کرنے والی ہے۔پس اس تلوار کو تھامو اور دنیا میں دیوانہ وار نکل جاؤ۔پھر اگر دنیا کی تلواریں بھی تم پر پڑیں اور وہ تمہاری گردنیں اڑا دیں تو تمہیں کچھ پرواہ نہیں ہونی چاہیئے۔کیونکہ تم ابدی زندگی پاؤ گے اور خدا کی گود میں چلے جاؤ گے۔کون موت سے ڈرتا ہے؟ وہی جسے خیال ہو کہ موت کے بعد اس سے باز پرس ہوگی۔مگر جسے یقین ہو کہ موت میں زندگی کا راز مضمر ہے، وہ ان کب موت سے خوف کھا سکتا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہی ایک صحابی کا واقعہ ہے۔وہ ایک دفعہ میدانِ جنگ بھاگ نکلے۔لوگوں کو حیرت ہوئی کیونکہ وہ بہت بہادر تھے۔اور بعضوں نے ان سے پوچھا کہ آپ