خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 39

خطبات محمود ۳۹ سال ۱۹۳۳ء۔کیوں بھاگے؟ آپ سے تو ہمیں یہ توقع نہیں تھی۔انہوں نے کہا۔اصل وجہ یہ ہے کہ میں ہمیشہ بغیر زرہ کے لڑا کرتا تھا۔آج اتفاقا رات کو میں نے زرہ پہنی اور لڑائی کے وقت اُتارنی یاد نہ رہی۔میرا مد مقابل وہ ہے جو دس بارہ مسلمانوں کو قتل کرچکا ہے۔میں نے خیال کیا کہ اگر میں زیرہ پہنے ہی مرگیا تو اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دوں گا کہ آگئے تو کبھی زرہ پہنی نہیں تھی مگر آج موت کے ڈر سے پہن لی۔تاکہ خدا سے ملنے کا جو دروازہ کھلنے والا ہے وہ نہ کھلے ھے۔تو جس کو یقین ہوتا ہے کہ موت موت نہیں بلکہ زندگی کا دروازہ ہے، وہ موت سے کبھی نہیں ڈرتا۔آخر تم کس لئے گھبراتے ہو کیا اس لئے کہ وہ تمہیں ماریں گے؟ مگر میں کہتا ہوں وہ تمہیں نہیں مارسکتے کیونکہ اگر ہم واقعی محمد اللہ پر ایمان لے آئے ہیں تو دشمن ہمیں نہیں مار سکتا۔ہم زندہ رہیں گے اور مرنے کے بعد بھی زندہ رہیں گے۔پس تبلیغ پر زور دو اور تکالیف میں صبر سے کام لو۔دشمن اگر تمہیں مارتا ہے تو تم اور تبلیغ کرو۔وہ گالی دیتا ہے تو تم اُس کیلئے دعا کرو۔یہ رنگ اور یہ نمونہ دکھاؤ تو ایک سال کے اندر ہی عظیم الشان تبدیلی پیدا ہو جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کئی کتابوں میں تحریر فرمایا ہے کہ مجھے جمالی رنگ میں اللہ تعالی کی طرف سے مبعوث فرمایا گیا ہے۔پس جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جمالی رنگ میں آئے تو تم تلوار کس طرح چلا سکتے ہو۔خدا تعالیٰ تمہیں اگر جلالی رنگ دینا چاہتا تو پہلے تلوار دیتا۔اور اب بھی اگر جلالی زمانہ لانا چاہے گا تو پہلے تلوار دے گا۔کس طرح ہو سکتا ہے کہ خدا تعالی تلوار تو چھین لے اور حکم دے کہ تم دشمنوں کے ساتھ تلوار سے لڑو۔اِس قسم کا حکم خدا تعالیٰ نہیں دے سکتا۔اس وقت تمہارے ہاتھ میں تلوار نہیں بلکہ تمہارے دشمن کے ہاتھ میں تلوار ہے۔عیسائیوں کے پاس تلوار ہے، زرتشتیوں کے پاس تلوار ہے، غیر احمدیوں کے پاس تلوار ہے۔اور ہندوؤں کے ہاتھ میں بھی ایک رنگ میں تلوار ہے کیونکہ اکثر ریاستیں ان کی ہیں۔مگر ہمارے ہاتھ میں تلوار نہیں حتی کہ کوئی ایک ریاست احمدیوں کی نہیں۔پس ہمارے پاس نہ ماتحت تلوار ہے نہ افسر تلوار- پھر کس طرح ہے ہم تلوار سے دشمن کا مقابلہ کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی جہاد کے متعلق یہی فرمایا ہے کہ اگر خدا موجود زمانے میں جہاد بالسیف چاہتا تو مسلمانوں کو پہلے تلوار دیتا۔پس بہادر بنو اور جرات سیکھو۔جرات یہ نہیں کہ ذرا سی تکلیف پر شور مچانا اور گھبرانا شروع کردو کہ ہماری کوئی بات نہیں سنتا۔تمہاری بات اگر کوئی نہیں سنتا تو تم چیخو اور ہو