خطبات محمود (جلد 14) — Page 306
خطبات محمود ۳۰۶ سال ۱۹۳۳ء ندامت سے نہیں بچ سکتے کیونکہ یہ ہماری ماضی کی کوتاہیوں کا نتیجہ ہوگا۔پس میں صد را منجمن احمد یہ لوکل کمیٹی اور بینگ مینز ایسوسی ایشن کو ان کی ذمہ داری کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔جماعت کو روحانی اور اخلاقی طریق پر چلانا ان کے ذمہ ہے۔ہمارے ہاتھ میں خدا تعالی نے ایسی چیز دی ہے کہ گویا پرانے زمانہ کی کہانیوں میں بیان کردہ واقعات کو سچ کر دکھایا ہے۔اور وہ آج ہمارے لئے صداقتیں ہیں۔کہانیوں میں آتا ہے کہ کوئی دیو کسی پر مہربان ہو گیا اور اسے اپنے بال دے کر کہا کہ اگر تمہیں کوئی مشکل در پیش ہو تو انہیں گرمی پہنچانا ہم آجائیں گے لیکن یہ سب جھوٹی باتیں ہیں۔دیو بھی جھوٹ بال بھی جھوٹ اور اس کا آنا بھی جھوٹ تھا۔لیکن کیا اس ہستی کے آموجود ہونے میں کوئی شبہ ہے۔جس نے خود بتایا ہے کہ۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنّى قَرِيبُ أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوالى و وَالْيَؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ لے۔ایک طاقتور ہستی ایسی ہے کہ اس سے صرف سوال کی ضرورت ہے۔صرف یہ کہنے کی دیر ہے کہ حضور آجائیے اور وہ کہتا ہے میں آجاتا ہوں۔پس اگر کوئی ایسی مشکل ہو جسے ہم اخلاقی اور قانونی طور پر دور نہیں کر سکتے تو خدا تعالیٰ سے دعائیں کرو۔حضرت نظام الدین اولیاء کے متعلق لکھا ہے کہ ان کے زمانہ میں ایک بادشاہ ان کا مخالف ہو گیا۔وہ کسی کام کیلئے باہر جارہا تھا۔اس نے کہا ہم واپس آکر سزا دیں گے۔جب اس کی واپسی شروع ہوئی تو آپ کے عقیدت مندوں میں گھبراہٹ پیدا ہونے لگی۔اور انہوں نے آپ سے عرض کیا کہ حضور امراء وغیرہ سے سفارش کرائیں تا بادشاہ کا عتاب دور ہو۔مگر آپ ہر بار یہی کہتے کہ خیر دیکھا جائے گا۔ہنوز دلی دور است حتی کہ بادشاہ شہر کے پاس پہنچ گیا۔اور اسلامی بادشاہوں کے طریق کے مطابق شہر سے باہر رات رہا۔صبح شہر میں داخل ہونے والا تھا۔رات کو بھی آپ کے مریدوں نے کہا کہ کچھ انتظام کیجئے مگر پھر بھی آپ نے یہی جواب دیا کہ ہنوز دلی دور است- جب صبح ہوئی تو بجائے بادشاہ کے شہر میں ورود کے اس کی موت کی خبر پہنچی ہے۔ہم جس خدا پر ایمان رکھتے ہیں وہ عجیب طاقتوں کا مالک ہے۔مجھے تو شرم آتی ہے کہ ایسے لوگوں کے متعلق میں کیا خطبہ پڑھوں ان کی ہستی ہی کیا ہے کہ ان کا ذکر کیا جائے۔اگر ہمارا خدا سے تعلق ہو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے