خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 307

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء پس اس کو محفوظ رکھو۔اور پھر تمہاری سوئی بھی ضائع نہیں ہو سکتی۔چہ جائیکہ تمہیں کوئی نقصان پہنچا سکے۔کیونکہ سوئی بلکہ بوٹ کا تسمہ بھی ”سب کچھ “ میں شامل ہے۔پس چاہیے کہ تقویٰ کو قائم کرو۔میں ہر ذمہ دار طبقہ کو خواہ وہ صدر انجمن احمدیہ ہو یا لوکل کمیٹی یا ینگ مینز ایسوسی ایشن نصیحت کرتا ہوں کہ ہمارے افعال کی بنیاد تقویٰ پر ہونی چاہیے۔چھوٹوں کی غلطی کی وجہ سے بڑوں کو ندامت اٹھانی پڑتی ہے۔اگر وہ کہیں کہ ہمیں علم نہیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ اپنے افراد پر ذمہ دار لوگوں کا اقتدار نہیں۔اگر علم ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خود بھی شامل ہیں۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی تیز طبیعت کے لوگ ہوتے تھے۔حضرت خالد بن ولید فتح مکہ کے وقت نو مسلم اور پھر جوشیلی طبیعت رکھتے تھے۔آپ نے مکہ میں تلوار چلائی۔آج تک لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے اشارہ سے ہی ایسا کیا ہو گا۔تیرہ سوسال تک اولیاء اللہ اس اعتراض کے دفعیہ میں لگے ہیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس کے جواب میں وقت صرف کیا ہے۔حالا نکہ محمد رسول اللہ اللہ کو اس کا علم تک نہ تھا۔ایک جوشیلے نو مسلم نے ایک حرکت کی جس کا جواب تیرہ سوسال سے دیا جا رہا ہے۔پس جن باتوں سے پہلے لوگ گزر چکے ہیں اور جن الزامات کو دور کرنے کیلئے ایک لمبا وقت صرف کیا جاچکا ہے تو کیا ہی عجیب بات ہوگی کہ جب لوگ ان باتوں کو چھوڑ دیں اور جب ثابت ہو جائے۔کہ رسول کریم کا ایسی باتوں۔کوئی تعلق نہ تھا بلکہ آپ اس بات پر ناراض ہوئے تھے تو نیا جھگڑا شروع ہو جائے کہ اچھا تم کیوں ایسا کرتے ہو۔اور پھر ہماری اولادوں کو ہم پر سے یہ اعتراض دور کرنے کیلئے وقت خرچ کرنا پڑے اور جب ہم پر سے یہ دور ہو جائے تو آئندہ آنے والے مامور کی جماعت پر یہ ہونے لگ جائے۔اور پھر ان کی اولادیں ان پر سے دور کرنے میں لگی رہیں۔اس لئے جوشیلے نوجوانوں کا قابو میں رکھنا بھی فرض ہے۔جھوٹ تو سب کے متعلق بولا جاسکتا ہے حتی کہ رسول کریم ﷺ کی مظلومیت کو بھی متعصب لوگوں نے ظلم قرار دے دیا ہے۔غرض اگر کوئی جھوٹ پر کمر باندھ لیتا ہے تو اس کا کوئی علاج کسی کے پاس نہیں۔مگر اپنی طرف سے ایسا نہیں دینا چاہیے کہ ہمارا سچ مشتبہ ہو اور بہترین چیز تو یہ کہ تم اس چیز کو رہنے ہی کیوں دیتے ہو جس سے اعتراضات پیدا ہوتے ہیں۔کیوں معترضین کو بھی اپنے ساتھ صداقت میں شامل نہیں کرلیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے بعد ہم نے کتنے