خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 278

خطبات محمود ۲۷۸ سال ۱۹۳۳ تو آرام کرو۔ہم کسی اور قوم کو کھڑا کر دیتے ہیں۔تب اُس نے مسیح کی قوم کو چنا۔اور مسیح کی قوم نے کام کیا، کام کیا اور کام کیا یہاں تک کہ جب اسے بھی ترقیات مل گئیں تو اس نے بھی کہا آؤ ہم آرام کریں۔خدا تعالیٰ نے اسے بھی چھوڑ دیا۔اور اس نے محمد ال کے ذریعہ مسلمانوں کو اپنے دین کی خدمت کیلئے چنا۔جب مسلمان ترقی کر گئے تو انہوں نے بھی کہا آؤ ہم آرام کریں۔خدا تعالیٰ کی سنت کے ماتحت مسلمانوں کی ترقیات بھی معدوم ہو گئیں۔اور اس نے عیسائیوں کے ذریعہ مسلمانوں کو خوب ریلا اور پیلا۔مگر چونکہ رسول کریم ﷺ سے وعدہ تھا کہ مسلمانوں کو دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی۔اس لئے اس نے آپ کے خلفاء میں سے کو کھڑا کر کے اس کی جماعت کے ذریعہ دین کا کام کرانا شروع کر دیا۔پس آرام کا کوئی دن نہیں آئے گا۔اور اگر ہماری جماعت نے بھی آرام کرنا چاہا تو جس دن ہماری جماعت بیٹھ جائے گی خدا ہماری جماعت کو چھوڑ کر کسی اور کو منتخب کرلے گا۔کیونکہ اللہ تعالی کہتا ہے ہم کبھی آرام نہیں کرتے۔مَامَسَّنَا مِنْ لُغُوبِ سے ہم تو تھکتے نہیں۔جو تھک جاتے ہیں ہم ایک شخص انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔پس وہی قوم حقیقی طور پر دنیا میں کامیابی حاصل کر سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفت مَا مَسَّنَا مِنْ لَّغُوبٍ کا مظہر بنتی ہے اور ان تھک کوششیں جاری رکھتی ہے۔پس بیدار بنو اور اپنی سستی اور غفلت کی عادتوں کو چھوڑ دو کہ دین کے معاملہ میں سستی اور غفلت کبھی اچھا نتیجہ پیدا نہیں کرتی۔الفضل ۱۹ - نومبر ۱۹۳۳ء) له بخاری کتاب الایمان باب احب الدين الى الله ادومة ت النساء: ۱۴۶ سے حضرت کعب بن مالک بخاری کتاب المغازی باب حديث كعب بن مالك وق:٣٩