خطبات محمود (جلد 14) — Page 277
طبات محمود سال ۱۹۳۳ء آپ کے لبوں کو دیکھتا کہ آیا وہ جواب دینے کیلئے ہلتے ہیں یا نہیں۔اور جب ملتے نظر نہ آتے تو میں باہر چلا جاتا۔اور خیال کرتا کہ رسول کریم ال نے شاید میری آواز نہیں سنی۔باہر سے پھر مجلس میں آکر السَّلامُ عَلَيْكُمْ کہتا۔اور پھر رسول کریم اللہ کے ہونٹوں کو دیکھتا کہ ہ جواب کیلئے حرکت میں آئے ہیں یا نہیں۔اور جب میں انہیں ہلتے نہ دیکھتا تو پھر خیال کرتا کہ شاید رسول کریم اے نے میری آواز نہیں سنی۔اور پھر مجلس سے باہر چلا جاتا اور پھر آکر سلام کہتا۔گویا بالکل دیوانگی کی حالت تھی ہے۔۔غرض جو لوگ عملی منافق نہیں یعنی ان کے دل میں تو ایمان ہے لیکن اپنی مستیوں اور غفلتوں کی وجہ سے ان کے قلب پر زنگ لگنا شروع ہو گیا ہے، اُن کیلئے تو یہ سزا بیداری کا موجب ہوگی۔اور جو حقیقی منافق ہیں، ان کا اس ذریعہ سے علم ہو جائے گا۔پھر اگر ایسے لوگ جماعت سے الگ بھی ہو جائیں تو خواہ دس ہزار کیوں نہ ہوں، ان کی علیحدگی کی وجہ سے جماعت میں اتنی کمی بھی نہیں آسکتی جتنی مچھر کے ایک پر کے ٹوٹنے سے دنیا میں آتی ہے۔اور ایسے آدمی جب نکلتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کے بدلے میں اور لوگ سلسلہ میں داخل کرتا ہے جو مخلص ہوتے ہیں۔پس میں قادیان کی جماعت کو خصوصاً اور باہر کی جماعتوں کو عموماً تنبیہ کرتا ہوں کہ اس عادت کو چھوڑ دیں کہ چند دن کام کیا اور پھر سُست ہو کر بیٹھ گئے۔ابھی تم نے فتوحات ہی کون سی حاصل کی ہیں کہ تم آرام سے بیٹھ جانے کی فکر میں ہو۔تمہارے بیٹھ جانے پر وہی مثال صادق آتی ہے کہ کسی گیڈری کے بچہ پیدا ہوا تو اس دن بارش کی چند بوندیں گریں۔وہ اپنی ماں سے کہنے لگا۔ماں! ماں! میں جب سے دنیا میں آیا ہوں اتنی زور کی بارش کبھی نہیں ہوئی۔وہ کہنے لگی بچہ تجھے دنیا میں آئے ابھی کتنی دیر ہوئی ہے۔ہماری جماعت کو قائم ہوئے ابھی قلیل عرصہ ہوا ہے پھر قلیل فتوحات ہیں۔دنیا میں فتوحات کا تو کیا ذکر ابھی اپنے نفوس پر فتوحات حاصل کرنا باقی ہے۔اور ایسا رنگ اپنے اندر پیدا کرنا ہے کہ دشمن بھی کہہ اُٹھے کہ فلاں شخص احمدی معلوم ہوتا ہے۔ان حالات میں ہمارے لئے یہ کب جائز ہے کہ ہم آرام سے بیٹھ رہیں۔جب آرام کرنے کا وقت آئے گا تو دیکھا جائے گا۔اور دیکھا کیا جائے گا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ جب کوئی قوم آرام کرنے کیلئے بیٹھی ہے تو پھر بیٹھ ہی جاتی ہے۔حضرت موسیٰ کی قوم کو کس نے بٹھایا۔جب انہیں ترقی مل گئی تو انہوں نے کہا آؤ اب ہم آرام کریں۔خدا تعالیٰ نے کہا ہم تو کام کرنے والے ہیں۔تم آرام کرنا چاہتے ہو تو