خطبات محمود (جلد 14) — Page 234
خطبات محمود ۲۳۴ سال ۱۹۳۳ء درجہ کے ہو گئے۔اور رسول کریم ال نے ان پر جہاد کو ترجیح دی۔اسی طرح ایک مسلمان کی جان کتنی قیمتی چیز ہے۔رسول کریم ﷺ حدیث قدسی میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کہتا ر سکتا ہے۔جب کسی مومن کی جان نکلنے کا وقت آتا ہے۔تو اس سے عرشِ عظیم کانپ جاتا ہے سے مگر اسی جان کے متعلق دوسرے موقع پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیوں نہیں جنگ میں جاتے اور جاکر مرجاتے۔گویا ایک وقت تو مسلمان کی جان اتنی قیمتی ہوتی ہے کہ عرش عظیم اس کے نکلنے سے کانپ جاتا ہے۔اور دوسرے وقت اتنی چھوٹی ہو جاتی ہے کہ جان کا نہ دینا منافقت ہو جاتی ہے۔پس بڑا چھوٹا ہونا نسبتی امور ہوتے ہیں۔مجھ سے ایک دفعہ ایک نوجوان گفتگو کر رہا تھا ڈاڑھی کے متعلق گفتگو تھی۔چونکہ وہ ہم میں سے ہی تھا۔اور جانتا تھا کہ ہم ہر مذہبی چیز کو اس کے اصل مقام پر کھڑا کرتے ہیں۔اس لئے اس نے یہ خیال کرکے کوشش کی کہ ایسی دلیل پیش کرے جس کے مقابلہ میں خاموش ہونا پڑے۔اس نے کہا ڈاڑھی اور روحانیت کا تعلق کیا ہے۔اگر ڈاڑھی رکھ لی جائے تو اس سے روحانی ترقی کس طرح ہو سکتی ہے۔ڈاڑھی اور روحانیت کا جوڑ ہی کیا ہے۔چند ٹھوڑی کے بال ہیں، اگر رکھ لئے تو روحانیت پر کیا اثر ہے اور نہ رکھنے سے روحانیت میں کیا کمی آسکتی ہے۔اور اگر ڈاڑھی کا روحانیت سے کوئی تعلق نہیں تو اسے مذہب میں کیوں شامل کیا جاتا ہے۔میں نے اسے جواب دیا۔کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ڈاڑھی اور روحانیت کا آپس میں تعلق نہیں۔مگر محمد ﷺ کی اطاعت اور روحانیت کی ترقی کا آپس میں بڑا تعلق ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ ڈاڑھی کے چھوٹے بڑے ہونے سے روحانیت نہ بڑھتی ہے۔نہ گھٹتی ہے۔مگر محمد اس کی اطاعت ہے۔مگر محمد ﷺ کی اطاعت یا عدم اطاعت میں اس کی ترقی یا تنزل ضرور ہوتا ہے۔غرض نسبتی لحاظ سے ایک چیز بڑی اور ایک چھوٹی ہوتی ہے۔اگر محمد ال کا حکم اور آپ کا نمونہ ہمارے سامنے نہ ہوتا تو جو شخص کہتا کہ ڈاڑھی رکھو اور جو کہتا کہ نہ رکھو اور آپس میں اس وجہ سے جھگڑتے۔میں ان دونوں کو بیوقوف سمجھتا۔لیکن جب خدا کے رسول نے کہا۔چاہے کسی حکمت سے کہا۔ہماری سمجھ میں وہ حکمت آتی ہو یا نہ آتی ہو، بہر حال ہمیں اسے اختیار کرنا چاہیے۔ڈاکٹر بسا اوقات جب ہمیں نسخہ دیتا ہے تو کئی دواؤں کے متعلق ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیوں ڈالی گئیں۔مگر ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ بیوقوفی سے تجویز کیا گیا ہے، اس لئے ہم نہیں پیتے بلکہ ڈاکٹر کے نسخہ کو تسلیم کرتے ہیں۔کیونکہ کہتے ہیں یہ ڈاکٹر کا تجویز کردہ نسخہ ہے اور ضرور کسی حکمت کے ماتحت دوائیں تجویز کہ